امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر مضارب نے مالِ مضاربت کے بدلے میں ایک اسباب خریدا، پھر اس اسباب کو قرض بیچا نفع پر، ابھی قرض وصول نہیں ہوا تھا کہ مضارب مر گیا، تو مضارب کے وارثوں کو اختیار ہوگا، چاہے اس قرض کو وصول کر کے مضارب کے قائم مقام ہو جائیں، چاہے اس قرض کا مقابلہ رب المال سے کروا کر آپ الگ ہو جائیں، اس صورت میں ان کو کچھ نہ ملے گا۔ اگر وارثوں نے تقاضا کر کے اس قرض کو وصول کیا، تو اپنا نفع اور خرچ مضارب کی مانند اس میں سے لیں گے، یہ جب ہےکہ وارث معتبر ہوں، اگر ان کا اعتبار نہ ہو تو ایک معتبر شخص کو مقرر کر کے قرضہ اور نفع وصول کروا دیں، جب وصول ہو جائے تو مضارب کے مثل ہوں گے۔ امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر رب المال نے مضارب سے یہ شرط کر لی کہ قرض نہ بیچنا اگر قرض بیچو گے تو تم ضامن ہو گے، پھر مضارب نے قرض بیچا تو وہ ضامن ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْقِرَاضِ/حدیث: 1401Q28]