سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا مزابنہ سے۔ مزابنہ اس کو کہتے ہیں کہ درخت پر پھل کھجور یا انگور اندزہ کر کے خشک کھجور یا انگور کے بدلے میں فروخت کی جائیں۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 1326]
تخریج الحدیث: «مرفوع صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2171، 2172، 2185، 2205، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1542،، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4996، 4998، 4999، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 4537، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 6079، 6080، 6095، وأبو داود فى «سننه» برقم: 3361، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2265، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 10560، والدارقطني فى «سننه» برقم: 2987، وأحمد فى «مسنده» برقم: 4528، والحميدي فى «مسنده» برقم: 1329، وانظر الترمذي: 1300، فواد عبدالباقي نمبر: 31 - كِتَابُ الْبُيُوعِ-ح: 23»
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا مزابنہ اور محاقلہ سے۔ مزابنہ کے معنی اوپر بیان ہوئے اور محاقلہ اس کو کہتے ہیں کہ گہیوں کا کھیت بدلے میں خشک گہیوں کے بیچے۔ سوا گیہوں کے اور جتنے اناج ہیں سب کا یہی حکم ہے، محاقلہ کے مشہور معنی یہی ہیں جو ترجمے میں بیان ہوئے، اور حدیث میں جو امام مالک رحمہ اللہ نے بیان کیے وہ یہ ہیں: کرایہ دینا زمین کا بعوض گیہوں کے، یعنی ایک شخص اپنی زمین کسی کو گیہوں بونے کو دے، اور اس کا کرایہ کسی قدر گیہوں ٹھہرا لے جب اس میں اُگیں، اس کو مخابرہ بھی کہتے ہیں۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 1327]
تخریج الحدیث: «مرفوع صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2186، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1546، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3916، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 4598، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2599، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2455، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 10752، وأحمد فى «مسنده» برقم: 11035، والدارمي فى «سننه» برقم: 2557، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 1191، 1269، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 23033، والطحاوي فى «شرح مشكل الآثار» برقم: 2695، فواد عبدالباقي نمبر: 31 - كِتَابُ الْبُيُوعِ-ح: 24»
حضرت سعید بن مسیّب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا مزابنہ اور محاقلہ سے، دونوں کے معنی اوپر گزرے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 1328]
تخریج الحدیث: «مرفوع صحيح، وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 1539، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3924، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 4604، 4605، 4606، 4651، 11709، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 11845، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 14444،، وأخرجه ابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 22875، 22877، 22883، فواد عبدالباقي نمبر: 31 - كِتَابُ الْبُيُوعِ-ح: 25»
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جو چیز ڈھیر لگا کر بیچی جائے، اور اس کا وزن اور کیل معلوم نہ ہو، تولی اور ناپی ہوئی چیز کے بدلے میں وہ مزابنہ میں داخل ہے (بشرطیکہ ایک جنس ہو)۔ اگر ایک شخص دوسرے سے کہے کہ یہ جو تیرا ڈھیر پڑا ہے، گیہوں یا کھجور یا چارہ یا گٹھلیوں یا گھاس یا کسم یا روئی یا کتان یا ریشم کا، اس کو ناپ یا تول یا شمار، اگر قدر سے کم نکلے تو میں تجھ کو مجرا دوں گا، اور جو زیادہ نکلے تو میں لے لوں گا، اس قسم کی بیع درست نہیں ہے، بلکہ یہ جوئے کے مشابہ ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 1328B1]
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اسی طرح اگر کوئی شخص دوسرے سے کہے کہ یہ کپڑا اتنی ٹوپیوں کو کافی ہے، اگر کم پڑے تو میں دوں گا اور جو بڑھے میں لے لوں گا، یا اس کپڑے میں اتنے کرتے بنیں گے، اگر کم پڑے میں دے دوں گا اور جو زیادہ ہو لے لوں گا، یا اس قدر کھالوں میں اتنی جوتیاں بنیں گی، اگر کم پڑے میں دوں گا زیادہ ہو تو لے لوں گا، یا اس قدر دانوں میں اتنا تیل نکلے گا، اگر کم نکلے تو میں دوں گا زیادہ نکلے تو میرا ہے، یہ سب مزابنہ میں داخل ہے جائز نہیں، یا یوں کہے کہ تیرے اس ڈھیر کے بدلے میں پتوں یا گٹھلیوں یا روئی یا ترکاری یا کسم کے اس قدر پتے یا گٹھلیاں یا روئی یا ترکاری یا کسم تول ناپ کر دیتا ہوں، ہر ایک کو اس کی جنس کے ساتھ بیچے تو بھی نادرست ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 1328B2]