امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر مکاتب کسی شخص کو ایسا زخمی کرے جس میں دیت واجب ہو تو اگر مکاتب اپنے بدل کتابت کے ساتھ دیت بھی ادا کر سکے تو دیت ادا کر دے، وہ مکاتب بنا رہے گا، اگر وہ اس پر قادر نہ ہو تو اپنی کتابت سے عاجز ہوا، کیونکہ دیت کا ادا کرنا کتابت پر مقدم ہے، پھر جب دیت دینے سے عاجز ہو جائے تو اس کے مولیٰ کو اختیار ہے اگر چاہے تو دیت ادا کر دے اور مکاتب کو غلام سمجھ کر رکھ لے، اب وہ بدستور اس کا غلام ہو جائے گا، اگر چاہے تو خود مکاتب کو اس شخص کے حوالے کرے جو زخمی ہوا ہے، مگر مولیٰ پر لازم نہیں ہے کہ غلام دے ڈالنے سے زیادہ اور کچھ اپنا نقصان کرے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْمُكَاتَبِ/حدیث: 1297Q1]
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر چند غلام ایک ساتھ مکاتب ہوں پھر ان میں سے ایک غلام کسی شخص کو زخمی کرے تو سب غلاموں سے کہا جائے گا دیت ادا کرو، اگر ادا کریں گے اپنی کتابت پر قائم رہیں گے، اگر نہ کریں گے سب کے سب عاجز سمجھے جائیں گے، چاہے جس غلام نے زخمی کیا ہے اس کو حوالے کر دے، باقی غلام بدستور مولیٰ کے غلام ہو جائیں گے، کیونکہ وہ دیت دینے سے عاجز ہوگئے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْمُكَاتَبِ/حدیث: 1297Q2]
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر مکاتب کو یا اس کی اولاد کو جو کتابت میں داخل ہو کوئی زخمی کرے، تو اس کی دیت غلاموں کی سی ہوگی، اور وہ دیت مولیٰ کو دی جائے گی، اور اس قدر بدل کتابت میں سے وضع کیا جائے گا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْمُكَاتَبِ/حدیث: 1297Q3]
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اس کی شرح یوں ہے کہ ایک شخص نے اپنے غلاموں کو تین ہزار درہم پر مکاتب کیا، اور اس کے زخم کی دیت ایک ہزار درہم وصول پائی، تو اب جب وہ مکاتب دوہزار درہم ادا کردے گا آزاد ہو جائے گا، اگر مولیٰ کے اس غلام پر ہزار ہی درہم بابتِ کتابت کے باقی تھے کہ ایک ہزار درہم دیت کے پائے تو وہ آزاد ہوجائے گا، اور جس قدر درہم باقی تھے اس سے زیادہ دیت کے درہم پائے تو مولیٰ جتنے باقی تھے اتنے لے کر باقی مکاتب کو پھیر دے گا، اور مکاتب آزاد ہوجائے گا، یہ درست نہیں کہ مکاتب کی دیت اسی کو حوالہ کر دیں، وہ کھا پی کر برابر کر دے، پھر اگر عاجز ہو جائے تو کانا لنگڑا لولا ہو کر اپنے مولیٰ کے پاس آئے، کیونکہ مولیٰ نے اس کو اختیار دیا تھا اس کے مال اور کمائی پر، نہ اپنی اولاد کی قیمت یا اپنی دیت پر کہ وہ کھا پی کر برابر کر دے، بلکہ مکاتب کی دیت اور اس کی اولاد کی دیت جو حالتِ کتابت میں پیدا ہوئی، یا ان پر عقدِ کتابت ہوا مولیٰ کو دی جائے گی، اور اس کے بدل کتابت میں مجرا ہوگی۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْمُكَاتَبِ/حدیث: 1297Q4]