سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے تھے: مکاتب غلام رہے گا جب تک اس پر کچھ بھی بدل کتابت میں سے باقی رہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْمُكَاتَبِ/حدیث: 1293]
تخریج الحدیث: «موقوف صحيح، و أخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: قبل از حديث: 2564، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 21644، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 15722، 15725، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 20557، 20943، والطحاوي فى «شرح معاني الآثار» برقم: 4723، فواد عبدالباقي نمبر: 39 - كِتَابُ الْمُكَاتَبِ-ح: 1»
حضرت عروہ بن زبیر اور سلیمان بن یسار کہتے تھے: مکاتب غلام ہے جب تک اس پر کچھ بھی بدل کتاب میں سے باقی ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْمُكَاتَبِ/حدیث: 1294]
تخریج الحدیث: «مقطوع ضعيف، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 21645، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 20560، فواد عبدالباقي نمبر: 39 - كِتَابُ الْمُكَاتَبِ-ح: 2»
_x000D_ امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ میری رائے یہی ہے۔ کہا امام مالک رحمہ اللہ نے: اگر مکاتب اپنی بدل کتابت سے زیادہ مال چھوڑ کر مر جائے، اور اپنی اولاد کو جو حالت کتابت میں پیدا ہوئی تھی، یا عقد کتابت میں داخل تھی، چھوڑ جائے، تو پہلے اس کے مال میں سے بدل کتابت ادا کریں گے، پھر جس قدر بچ رہے گا اس کی وارث مکاتب کی اولاد ہوگی۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْمُكَاتَبِ/حدیث: 1294B1]
حضرت حمید بن قیس مکی سے روایت ہے کہ ایک مکاتب ابنِ متوکل کا مکّہ میں مر گیا، اور کچھ بدل کتابت اس پر باقی رہ گیا تھا، اور لوگوں کا قرض بھی تھا، اور ایک بیٹی چھوڑ گیا، تو مکّہ کے عامل کو اس باب میں حکم کرنا دشوار ہوا، تو اس نے عبدالملک بن مروان کو لکھا۔ عبدالملک نے اس کے جواب میں لکھا کہ پہلے لوگوں کا قرض ادا کر، پھر جس قدر بدل کتابت باقی رہ گیا ہے اس کو ادا کر، بعد اس کے جو کچھ بچے وہ اس کی بیٹی اور مولیٰ کو تقسیم کر دے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْمُكَاتَبِ/حدیث: 1295]
تخریج الحدیث: «مقطوع صحيح، وأخرجه عبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 15659، فواد عبدالباقي نمبر: 39 - كِتَابُ الْمُكَاتَبِ-ح: 3»
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہمارے نزدیک یہ حکم ہے: اگر غلام اپنے مولیٰ کو کہے: مجھ کو مکاتب کر دے، تو مولیٰ پر ضروری نہیں خواہ مخواہ مکاتب کرے، اور میں نے کسی عالم سے نہیں سنا کہ مولیٰ پر جبر ہوگا اپنے غلام کے مکاتب کرنے پر، اور جب وہ شخص ان سے اللہ جل جلالہُ کے اس قول کو بیان کرتا کہ ”مکاتب کرو اپنے غلاموں کو اگر اس میں بہتری جانو۔“ تو وہ یہ آیتیں پڑھتے: ”جب تم احرام کھول ڈالو شکار کرو۔“”جب نماز ہو جائے تو پھیل جاؤ زمین میں اور اللہ کا فضل ڈھونڈو۔“ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْمُكَاتَبِ/حدیث: 1295B1]
ام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ بھی امر کا صیغہ ہے لیکن یہاں اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں لوگوں کو اجازت دی ہے۔ یہ امر ان کے لئے واجب قرار نہیں دیا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْمُكَاتَبِ/حدیث: 1295B2]
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: میں نے بعض اہلِ علم سے سنا اس آیت کی تفسیر میں ”دو تم اپنے مکاتبوں کو اس مال سے جو دیا تم کو اللہ تعالیٰ نے۔“ کہتے تھے: مراد اس آیت سے یہ ہے کہ آدمی اپنے غلام کو مکاتب کرے، پھر اس کے بدل کتابت میں سے کچھ معاف کردے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْمُكَاتَبِ/حدیث: 1295B3]
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: میں نے یہ اچھا سنا اور اسی پر لوگوں کو عمل کرتے ہوئے پایا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْمُكَاتَبِ/حدیث: 1295B4]
کہا امام مالک رحمہ اللہ نے: مجھے یہ پہنچا کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے غلام کو مکاتب کیا پینتیس ہزار درہم پر، پھرآخر میں اسے پانچ ہزار درہم معاف کر دیئے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْمُكَاتَبِ/حدیث: 1295B5]
ہا امام مالک رحمہ اللہ نے: جب غلام مکاتب ہو جائے، اس کا مال اسی کو ملے گا۔ مگر اولاد اس کے عقد کتابت میں داخل نہ ہوگی، البتہ جب شرط لگائے تو اولاد بھی داخل ہوگی۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْمُكَاتَبِ/حدیث: 1295B6]
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: جس شخص نے اپنے غلام کو مکاتب کیا اور اس غلام کی ایک لونڈی تھی جو حاملہ تھی اس سے، مگر حمل کا حال نہ غلام کو معلوم تھا نہ مولیٰ کو، تو وہ بچہ جب پیدا ہوگا مکاتب کو نہ ملے گا، بلکہ مولیٰ کو ملے گا، البتہ لونڈی مکاتب ہی کی رہے گی کیونکہ وہ اس کا مال ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْمُكَاتَبِ/حدیث: 1295B7]
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر ایک عورت اپنا مکاتب چھوڑ کر مر گئی، اور اس کے دو وارث ہیں ایک خاوند اور ایک لڑکا اس عورت کا، پھر مکاتب مر گیا قبل ادا کرنے بدل کتابت کے، تو خاوند اور لڑکا موافق کتاب اللہ کے اس کی میراث کو تقسیم کرلیں گے۔ (ایک چوتھائی خاوند کا ہوگا اور باقی بیٹے کا)، اور جو بعد ادا کرنے بدل کتابت کے مرا، تو میراث اس کی سب بیٹے کو ملے گی، خاوند کو کچھ نہ ملے گا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْمُكَاتَبِ/حدیث: 1295B8]
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر مکاتب اپنے غلام کو مکاتب کرے، تو دیکھیں گے اگر اس نے رعایت کے طور پر بدل کتابت کم ٹھہرایا ہے تو یہ کتابت جائز نہ ہوگی، اور جو بدل کتابت اپنا فائدہ دیکھ کر ٹھہرایا ہے تو جائز ہوگی۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْمُكَاتَبِ/حدیث: 1295B9]
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: جو شخص اپنی مکاتبہ لونڈی سے صحبت کرے اور وہ حاملہ ہوجائے، تو اس لونڈی کو اختیار ہے چاہے وہ اُم ولد بن کر رہے، چاہے اپنی کتابت قائم رکھے، اگر حاملہ نہ ہو تو وہ مکاتب رہے گی۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْمُكَاتَبِ/حدیث: 1295B10]
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے کہ جو غلام دو آدمیوں میں مشترکہ ہو اس کو کوئی مکاتب نہیں کر سکتا، اگرچہ دوسرا شریک اجازات بھی دے، بلکہ دونوں شریک مل کر مکاتب کرسکتے ہیں، کیونکہ اگر ایک شریک اپنے حصّہ کو مکاتب کردے گا اور مکاتب بدل کتابت ادا کردے گا تو اس قدر حصّہ آزاد ہونا پڑے گا، اب اس شریک پر جس نے کچھ حصّہ آزاد کیا لازم نہیں کہ دوسرے شریک کو ضمانت دے کر اس کی آزادی پوری کرے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جو حکم فرمایا ہے: دوسرے شریک کے حصّہ کی قیمت ادا کرنے کا وہ عتاق میں ہے نہ کہ کتابت میں۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْمُكَاتَبِ/حدیث: 1295B11]
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر اس شریک کو یہ مسئلہ معلوم نہ ہو، وہ اپنے حصّہ کو مکاتب کر کے کل یا بعض بدل کتابت وصول کر لے، تو جس قدر وصول کیا ہو اس کو وہ اور اس کا شریک اپنے حصّوں کے موافق بانٹ لیں، کتابت باطل ہو جائے گی، اور وہ مکاتب بدستور غلام رہے گا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْمُكَاتَبِ/حدیث: 1295B12]
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: جو مکاتب دو آدمیوں میں مشترک ہو، پھر ایک آدمی ان میں سے اس کو مہلت دے اور دوسرا نہ دے، اور جس شخص نے مہلت نہ دی وہ اپنا کچھ حق وصول کر لے، بعد اس کے مکاتب مرجائے اور اس قدر مال نہ چھوڑے کہ اس کے بدل کتابت کو کافی ہو، تو جس قدر مال چھوڑ گیا ہے تو پہلے دونوں شریک اپنے اپنے بقایا وصول کر کے جو کچھ بچے گا برابربانٹ لیں گے۔ اگر مکاتب عاجز ہوگا اور جس شخص نے مہلت نہ دی اس نے دوسرے شریک کی نسبت کچھ زیادہ وصول کرلیا ہے، تو غلام دونوں میں آدھا آدھا مشترک رہے گا [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْمُكَاتَبِ/حدیث: 1295B13]
اور جس نے زیادہ لیا ہے وہ اپنے شریک کو کچھ نہ پھیرے گا، کیونکہ اس نے اپنے شریک کی اجازت سے لیا ہے۔ اگر ایک نے اپنا حصّہ معاف کردیا تھا اور دوسرے نے کچھ وصول کیا، پھر غلام عاجز ہوگیا تو وہ غلام دونوں میں مشترک رہے گا، اور جس نے کچھ وصول کر لیا ہے وہ دوسرے شریک کو کچھ نہ دے گا، کیونکہ اس نے اپنا حق وصول کیا، اس کی مثال یہ ہے کہ دو آدمیوں کا قرض ایک ہی دستاویز کی رو سے ایک آدمی پر ہو، پھر ایک شخص اس کو مہلت دے اور دوسرا حرص کر کے کچھ وصول کر لے، بعد اس کے قرض دار مفلس ہو جائے، پھر جس شخص نے وصول کر لیا ہے وہ دوسرے شریک کو اس میں سے کچھ نہ دے گا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْمُكَاتَبِ/حدیث: 1295B14]