موطا امام مالك رواية يحييٰ
كِتَابُ النِّكَاحِ
کتاب: نکاح کے بیان میں
10. بَابُ نِكَاحِ الرَّجُلِ أُمَّ امْرَأَةٍ قَدْ أَصَابَهَا عَلَى وَجْهِ مَا يَكْرَهُ
10. جس عورت سے زنا کرے اس کی ماں سے نکاح درست ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 1097Q1
قَالَ مَالِكٌ: فِي الرَّجُلِ يَزْنِي بِالْمَرْأَةِ، فَيُقَامُ عَلَيْهِ الْحَدُّ فِيهَا. إِنَّهُ: يَنْكِحُ ابْنَتَهَا، وَيَنْكِحُهَا ابْنُهُ، إِنْ شَاءَ. وَذَلِكَ أَنَّهُ أَصَابَهَا حَرَامًا، وَإِنَّمَا الَّذِي حَرَّمَ اللّٰهُ مَا أُصِيبَ بِالْحَلَالِ، أَوْ عَلَى وَجْهِ الشُّبْهَةِ بِالنِّكَاحِ،
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: جو شخص زنا کرے ایک عورت سے اور اس کو حد لگائی جائے، اب وہ شخص اس عورت کی ماں یا بیٹی سے نکاح کر سکتا ہے، اور اس شخص کا بیٹا اس عورت سے نکاح کر سکتا ہے۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 1097Q1]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 28 - كِتَابُ النِّكَاحِ-ح: 23»

حدیث نمبر: 1097Q2
قَالَ اللّٰهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى ﴿وَلَا تَنْكِحُوا مَا نَكَحَ آبَاؤُكُمْ مِنَ النِّسَاءِ﴾ [النساء: 22]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 28 - كِتَابُ النِّكَاحِ-ح: 23»

حدیث نمبر: 1097Q3
قالَ مَالِكٌ: فَلَوْ أَنَّ رَجُلًا نَكَحَ امْرَأَةً فِي عِدَّتِهَا، نِكَاحًا حَلَالًا، فَأَصَابَهَا، حَرُمَتْ عَلَى ابْنِهِ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا، وَذَلِكَ أَنَّ أَبَاهُ نَكَحَهَا عَلَى وَجْهِ الْحَلَالِ، لَا يُقَامُ عَلَيْهِ فِيهِ الْحَدُّ، وَيُلْحَقُ بِهِ الْوَلَدُ الَّذِي يُولَدُ فِيهِ بِأَبِيهِ، وَكَمَا حَرُمَتْ عَلَى ابْنِهِ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا حِينَ تَزَوَّجَهَا أَبُوهُ فِي عِدَّتِهَا وَأَصَابَهَا، فَكَذَلِكَ يَحْرُمُ عَلَى الْأَبِ ابْنَتُهَا إِذَا هُوَ أَصَابَ أُمَّهَا.
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر ایک شخص نے عدت کے اندر کسی عورت سے نکاح کیا، اور اس سے صحبت کی تو وہ عورت اس کے بیٹے پر حرام ہو جائے گی، اور اس عورت سے جو لڑکا پیدا ہوگا اس کا نسب اس شخص سے ثابت ہوگا، اور اس شخص پر اس عورت کی بیٹی حرام ہو جائے گی۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 1097Q3]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 28 - كِتَابُ النِّكَاحِ-ح: 23»