سعید بن مسیّب سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حکم کیا کہ جب کوئی شخص کسی عورت سے نکاح کرے اور خلوتِ صحیحہ ہو جائے تو مہر واجب ہو گیا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 1085]
تخریج الحدیث: «موقوف صحيح، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 14479، والبيهقي فى «معرفة السنن والآثار» برقم: 4328، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 10869، 10870، 10871، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 16690، والدارقطني فى «سننه» برقم: 3818، 3820، 3821، فواد عبدالباقي نمبر: 28 - كِتَابُ النِّكَاحِ-ح: 12»
امام مالک رحمہ اللہ کو پہنچا کہ سعید بن مسیّب کہتے تھے کہ جب مرد عورت کے گھر میں جائے تو مرد کی تصدیق ہوگی، اور جو عورت مرد کے گھر میں جائے تو عورت کی تصدیق ہوگی۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 1086]
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: مطلب اس کا یہ ہے کہ جب مرد عورت کے گھر میں رہے، پھر اختلاف ہو۔ عورت کہے مجھ سے جماع کیا ہے، اور مرد کہے نہیں کیا ہے، تو مرد کی بات کا اعتبار ہوگا۔ اور جو عورت مرد کے گھر میں رہے، پھر اختلاف ہو تو عورت کی بات کا اعتبار ہوگا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 1086B1]