سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے تھے: جب نحر کی جائے اونٹنی تو اس کے پیٹ کے بچے کی بھی ذکاۃ ہو جائے گی، بشرطیکہ اس بچے کے تمام اعضاء پورے ہو گئے ہوں، اور بال بالکل نکل آئے ہوں، اگر وہ بچہ پیٹ سے زندہ نکل آئے تو اس کا ذبح کرنا ضروری ہے، تاکہ خون اس کے پیٹ سے نکل جائے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الذَّبَائِحِ/حدیث: 1036]
تخریج الحدیث: «موقوف صحيح، وأخرجه الحاكم فى «مستدركه» برقم: 7204، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 19493، 19554، 19555، والدارقطني فى «سننه» برقم: 4731، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 8642، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 7856، 8234، 9453، والطبراني فى «الصغير» برقم: 20، 1067، فواد عبدالباقي نمبر: 24 - كِتَابُ الذَّبَائِحِ-ح: 8»
سعید بن مسیّب کہتے تھے کہ ذکاۃ پیٹ کے بچہ کی اس کی ماں کی ذکاۃ سے ہو جائے گی، جب وہ بچہ پورا ہو گیا ہو اور بال نکل آئے ہوں۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الذَّبَائِحِ/حدیث: 1037]
تخریج الحدیث: «مقطوع صحيح، وأخرجه وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 8647، فواد عبدالباقي نمبر: 24 - كِتَابُ الذَّبَائِحِ-ح: 9»