موطا امام مالك رواية يحييٰ
كِتَابُ النُّذُورِ وَالْأَيْمَانِ
کتاب: نذروں کے بیان میں
3. بَابُ الْعَمَلِ فِي الْمَشْيِ إِلَى الْكَعْبَةِ
3. کعبہ کی طرف پیدل چلنے کا بیان
حدیث نمبر: 1015Q1
قَالَ مَالِكٌ: أَنَّ أَحْسَنَ مَا سَمِعْتُ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي الرَّجُلِ يَحْلِفُ بِالْمَشْيِ إِلَى بَيْتِ اللّٰهِ. أَوِ الْمَرْأَةِ. فَيَحْنَثُ أَوْ تَحْنَثُ. أَنَّهُ إِنْ مَشَى الْحَالِفُ مِنْهُمَا فِي عُمْرَةٍ فَإِنَّهُ يَمْشِي حَتَّى يَسْعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ. فَإِذَا سَعَى فَقَدْ فَرَغَ. وَأَنَّهُ إِنْ جَعَلَ عَلَى نَفْسِهِ مَشْيًا فِي الْحَجِّ، فَإِنَّهُ يَمْشِي حَتَّى يَأْتِيَ مَكَّةَ. ثُمَّ يَمْشِي حَتَّى يَفْرُغَ مِنَ الْمَنَاسِكِ كُلِّهَا. وَلَا يَزَالُ مَاشِيًا حَتَّى يُفِيضَ.
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: مجھے یہ پسند ہے جو میں نے سنا اہلِ علم سے کہ اگر مرد یا عورت قسم کھائے کعبہ شریف کو پیدل جانے کی، پھر قسم اس کی ٹوٹے اور اس کو پیدل جانا کعبہ کا لازم آئے، تو عمرہ میں جب تک سعی سے فارغ ہو پیدل چلے، اور حج میں جب تک طوافِ زیارت سے فارغ ہو پیدل چلے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ النُّذُورِ وَالْأَيْمَانِ/حدیث: 1015Q1]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 22 - كِتَابُ النُّذُورِ وَالْأَيْمَانِ-ح: 5»

حدیث نمبر: 1015Q2
قَالَ مَالِكٌ: وَلَا يَكُونُ مَشْيٌ إِلَّا فِي حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ.
کہا امام مالک رحمہ اللہ نے: پیدل چلنے کی نذر دو ہی چیزوں میں ہوتی ہے، حج یا عمرے میں۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ النُّذُورِ وَالْأَيْمَانِ/حدیث: 1015Q2]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 22 - كِتَابُ النُّذُورِ وَالْأَيْمَانِ-ح: 5»