کہا امام مالک رحمہ اللہ نے: فرمایا اللہ جل جلالہُ نے: ”اے ایمان والو! مت مارو شکار جب تم احرام باندھے ہو، اور جو کوئی تم میں سے قصداً شکار مارے تو اس پر جزاء لازم ہے اس کی مثل جانور کے، حکم کر دیں اس کا دو پرہیزگار شخص، خواہ جزاء ہدی ہو جو کعبہ میں پہنچے یا کفارہ ہو مسکینوں کو کھلانا یا اس قدر روزے تاکہ چکھے وبال اپنے کام کا۔“[موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 787Q2]
کہا امام مالک رحمہ اللہ نے: جو شخص شکار پکڑے اور وہ حلال ہو، پھر احرام کی حالت میں اس کو مارے، تو وہ اس کے مثل ہے کہ محرم شکار کو خرید کر اس کو مارے، اللہ نے منع کیا ہے اس کے مارنے سے تو اس پر اس کی جزاء لازم ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 787Q3]
کہا امام مالک رحمہ اللہ نے: ہمارے نزدیک یہ حکم ہے کہ جو شخص احرام کی حالت میں شکار مارے گا اس پر حکم لگایا جائے گا جزاء کا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 787Q4]
کہا امام مالک رحمہ اللہ نے: میں نے بہت اچھا اس باب میں یہ سنا ہے کہ جو شخص شکار مارے تو اس شکار کی قیمت لگائیں گے اور حساب کریں گے کہ اس کی قیمت میں سے کتنا غلہ آتا ہے، تو ہر مد ایک مسکین کو دے یا ہر مد کے بدلے میں ایک روزہ رکھے اور مساکین کے شمار کو دیکھ لے۔ اگر دس ہوں تو دس روزے، اور اگر بیس ہوں تو بیس روزے رکھے۔ اگرچہ ساٹھ مسکینوں سے بڑھائیں۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 787Q5]
کہا امام مالک رحمہ اللہ نے: جو شخص حرم میں شکار مارے اور وہ حلال ہو تو اس کا حکم ایسا ہی ہے جو احرام کی حالت میں شکار مارے حرم میں۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 787Q6]