مقداد بن الاسود کو حکم کیا سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہ پوچھیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے جب کوئی مرد نزدیکی کرے اپنی عورت سے اور نکل آئے مذی تو کیا لازم ہوتا ہے اس شخص پر؟ کہا سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی میرے نکا ح میں ہیں، اس سبب سے مجھے پوچھنے میں شرم آتی ہے، تو پوچھا مقداد نے۔ فرمایا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے: ”جب تم میں سے کسی کو ایسا اتفاق ہو تو دھو ڈالے ذکر کو پانی سے، اور وضو کرے جیسے کہ وضو ہوتا ہے نماز کے لیے۔“[موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 83]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم:132، 178، 269، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 303، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 21، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 1101، 1106، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 153، 156، 439، وأبو داود فى «سننه» برقم: 206، 207، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 505، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 568، وأحمد فى «مسنده» برقم: 16996، 24331، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 600، والطبراني فى "الكبير"، 563، 564، 596، شركة الحروف نمبر: 76، فواد عبدالباقي نمبر: 2 - كِتَابُ الطَّهَارَةِ-ح: 53»
حضرت اسلم سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: مذی اس طرح گرتی ہے مجھ سے جیسے بلور کا دانہ، تو جب ایسا اتفاق ہو تم میں کسی کو تو دھو ڈالے اپنے ذکر کو اور وضو کرے جیسے وضو کرتا ہے نماز کے لیے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 84]
تخریج الحدیث: «موقوف صحيح، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 1697، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 605، 606، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 975، 976، شركة الحروف نمبر: 77، فواد عبدالباقي نمبر: 2 - كِتَابُ الطَّهَارَةِ-ح: 54»
حضرت جندب سے روایت ہے کہ پوچھا میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مذی کا حکم، تو کہا انہوں نے: جب دیکھے تو مذی کو، دھو ڈال ذکر کو اپنے، اور وضو کر جیسے وضو کرتا ہے نماز کے لیے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 85]