اسلم عدوی مولیٰ عمر سے روایت ہے کہ عمر رضی الله عنہ نے اسامہ بن زید رضی الله عنہما کے لیے بیت المال سے ساڑھے تین ہزار کا، وظیفہ مقرر کیا، اور عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کے لیے تین ہزار کا تو عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما نے اپنے باپ سے عرض کیا: آپ نے اسامہ کو مجھ پر ترجیح دی؟ اللہ کی قسم! وہ مجھ سے کسی غزوہ میں آگے نہیں رہے، تو انہوں نے کہا: اس لیے کہ زید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تمہارے باپ سے اور اسامہ تم سے زیادہ محبوب تھے، اس لیے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب کو اپنے محبوب پر ترجیح دی۔
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3813]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 10401) (ضعیف) (سند میں سفیان بن وکیع ضعیف راوی ہیں)»
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہم زید بن حارثہ کو زید بن محمد ہی کہہ کر پکارتے تھے یہاں تک کہ آیت کریمہ «ادعوهم لآبائهم هو أقسط عند الله»”تم متبنی (لے پالک) لوگوں کو ان کے اپنے باپوں کے نام پکارا کرو، یہی بات اللہ کے نزدیک زیادہ قرین انصاف بات ہے“(الاحزاب: ۵)، نازل ہوئی۔
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3814]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم 3209 (صحیح)»
زید بن حارثہ رضی الله عنہ کے بھائی جبلہ بن حارثہ رضی الله عنہ کا بیان ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے بھائی زید کو میرے ساتھ بھیج دیجئیے، آپ نے فرمایا: ”وہ موجود ہیں اگر تمہارے ساتھ جانا چاہ رہے ہیں تو میں انہیں نہیں روکوں گا“، یہ سن کر زید نے کہا: اللہ کے رسول! قسم اللہ کی! میں آپ کے مقابلہ میں کسی اور کو اختیار نہیں کر سکتا، جبلہ کہتے ہیں: تو میں نے دیکھا کہ میرے بھائی کی رائے میری رائے سے افضل تھی۔
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف ابن رومی کی روایت سے جانتے ہیں، جسے وہ علی بن مسہر سے روایت کرتے ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3815]
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر روانہ فرمایا اور اس کا امیر اسامہ بن زید کو بنایا تو لوگ ان کی امارت پر تنقید کرنے لگے چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم ان کی امارت میں طعن کرتے ہو تو اس سے پہلے ان کے باپ کی امارت پر بھی طعن کر چکے ہو ۱؎، قسم اللہ کی! وہ (زید) امارت کے مستحق تھے اور وہ مجھے لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب تھے، اور ان کے بعد یہ بھی (اسامہ) لوگوں میں مجھے سب سے زیادہ محبوب ہیں“۔
امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3816]
عبداللہ بن دینار نے عمر کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مالک بن انس کی حدیث ہی جیسی حدیث روایت کی۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3816M]