عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم صفا
(پہاڑ) پر چڑھ گئے، وہاں سے یا
«صباحاه» ۱؎ آواز لگائی تو قریش آپ کے پاس اکٹھا ہو گئے۔ آپ نے فرمایا:
”میں تمہیں سخت عذاب سے ڈرانے والا
(بنا کر بھیجا گیا) ہوں، بھلا بتاؤ تو اگر میں تمہیں خبر دوں کہ
(پہاڑ کے پیچھے سے) دشمن شام یا صبح تک تم پر چڑھائی کرنے والا ہے تو کیا تم لوگ مجھے سچا جانو گے؟ ابولہب نے کہا کیا: تم نے ہمیں اسی لیے اکٹھا کیا تھا؟ تمہارا ستیاناس ہو
۲؎، اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت
«تبت يدا أبي لهب وتب» ”ابولہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ گئے اور وہ ہلاک ہو گیا
“ (تبت: ۱)، نازل فرمائی،
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
[سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3363]