ابی بن کعب سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا: «قد بلغت من لدني عذرا»۱؎ یعنی «لدني» کو نون ثقیلہ کے ساتھ پڑھا۔
امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- امیہ بن خالد ثقہ ہیں، ۳- ابوالجاریہ عبدی مجہول شیخ ہیں، ہم ان کا نام نہیں جانتے۔ [سنن ترمذي/كتاب القراءات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2933]
وضاحت: ۱؎: مشہور قراءت اسی طرح ہے یعنی نون پر تشدید کے ساتھ لیکن نافع وغیرہ نے اس کو اس طرح پڑھا ہے «مِنْ لَدُنِیْ» یعنی نون پر صرف سادہ زیر کے ساتھ بہرحال معنی ایک ہی ہے، یعنی یقیناً آپ میری طرف سے عذر کو پہنچ گئے۔ (الکہف: ۷۶)
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد //، ضعيف أبي داود (856 / 3985) //
قال الشيخ زبير على زئي: (2933) إسناده ضعيف / د 3985
ابی بن کعب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «في عين حمئة» پڑھا ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- صحیح ابن عباس کی قرأت ہے جو ان سے مروی ہے، ۳- مروی ہے کہ ابن عباس اور عمرو بن العاص رضی الله عنہم دونوں نے اس آیت کی قرأت میں آپس میں اختلاف کیا، اور اپنا معاملہ (فیصلہ کے لیے) کعب احبار کے پاس لے گئے۔ اگر ان کے پاس اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی روایت ہوتی تو وہ روایت ان کے لیے کافی ہوتی، اور کعب احبار کی طرف انہیں رجوع کی حاجت نہ رہتی۔ [سنن ترمذي/كتاب القراءات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2934]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/ الحروف (3986) (تحفة الأشراف: 43) (ضعیف الإسناد) (سند میں سعد بن اوس سے غلطیاں ہو جایا کرتی تھیں، اور مصدع لین الحدیث ہیں، مگر اس حدیث کا متن دیگر سندوں سے ثابت ہے)»
وضاحت: ۱؎: یہی مشہور قراءت ہے، یعنی: «حَمِئَةٍ» حاء کے بعد بغیر الف کے، جبکہ بعض قراء کی قراءت «حَامِئَةٍ» یعنی حاء کے بعد الف غیر مہموزہ کے ساتھ، بہرحال معنی ہے: ”اور سورج کو ایک دلدل کے چشمے میں ڈوبتا پایا“۔ (الکہف: ۸۶)
قال الشيخ الألباني: صحيح المتن
قال الشيخ زبير على زئي: (2934) إسناده ضعيف / د 3986