ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے لوہے کے ہتھیار سے اپنی جان لی، وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے ہاتھ میں وہ ہتھیار ہو گا اور وہ اسے جہنم کی آگ میں ہمیشہ اپنے پیٹ میں گھونپکتا رہے گا، اور جس نے زہر کھا کر خودکشی کی، تو اس کے ہاتھ میں وہ زہر ہو گا، اور وہ جہنم کی آگ میں ہمیشہ اسے پیتا رہے گا“۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الطب عن رسول اللَّهِ صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2043]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الطب 56 (5778)، صحیح مسلم/الإیمان 47 (175)، سنن ابی داود/ الطب 11 (3872)، سنن النسائی/الجنائز 68 (1967)، سنن ابن ماجہ/الطب 11 (3460) (تحفة الأشراف: 12440)، و مسند احمد (2/254، 278، 488)، و سنن الدارمی/الدیات 10 (2407) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اہل توحید کے سلسلہ میں متعدد روایات سے ثابت ہے کہ وہ جہنم میں اپنے گناہوں کی سزا بھگت کر اس سے باہر آ جائیں گے، یہی وجہ ہے کہ علماء نے «خالدا مخلدا» کی مختلف توجیہیں کی ہیں: (۱) اس سے زجر و توبیخ مراد ہے، (۲) یہ اس شخص کی سزا ہے جس نے ایسا حلال و جائز سمجھ کر کیا ہو، (۳) اس عمل کی سزا یہی ہے لیکن اہل توحید پر اللہ کی نظر کرم ہے کہ یہ سزا دینے کے بعد پھر انہیں جہنم سے نکال لے گا، (۴) ہمیشہ ہمیش رہنے مراد لمبی مدت ہے۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے لوہے سے اپنی جان لی، اس کے ہاتھ میں وہ ہتھیار ہو گا اور وہ اسے جہنم کی آگ میں ہمیشہ اپنے پیٹ میں گھونپکتا رہے گا، اور جس نے زہر کھا کر خودکشی کی، تو اس کے ہاتھ میں زہر ہو گا اور وہ جہنم کی آگ میں ہمیشہ اسے پیتا رہے گا، اور جس نے پہاڑ سے گر کر خودکشی کی، وہ جہنم کی آگ میں ہمیشہ گرتا رہے گا“۔ [سنن ترمذي/كتاب الطب عن رسول اللَّهِ صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2044]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (تحفة الأشراف: 12394) (صحیح)»
اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی الله عنہ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے، جس طرح شعبہ کے طریق سے مروی ہے۔
امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث صحیح ہے اور پہلی حدیث سے زیادہ صحیح ہے، ۲- اسی طرح کئی لوگوں نے یہ حدیث «عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے روایت کی ہے، ۳- محمد بن عجلان نے «عن سعيد المقبري عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے روایت کی ہے، آپ نے فرمایا: ”جس نے زہر کھا کر خودکشی کی، وہ جہنم میں عذاب سے دو چار ہو گا“، اس حدیث میں راوی نے یہ نہیں ذکر کیا کہ ”وہ جہنم میں ہمیشہ رہے گا“، ابوالزناد نے بھی اسی طرح «عن الأعرج عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے روایت کی ہے، یہ زیادہ صحیح ہے، اس لیے کہ روایتوں میں آتا ہے کہ ”عذاب دیے جانے کے بعد اہل توحید کو جہنم سے نکالا جائے گا“ اور یہ مذکور نہیں ہے کہ ان کو ہمیشہ جہنم میں رکھا جائے گا۔ [سنن ترمذي/كتاب الطب عن رسول اللَّهِ صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2044M]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (تحفة الأشراف: 12466 و12526)»