ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بچہ صاحب فراش (یعنی شوہر یا مالک) کا ہو گا ۱؎ اور زانی کے لیے پتھر ہوں گے“۲؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عمر، عثمان، عائشہ، ابوامامہ، عمرو بن خارجہ، عبداللہ بن عمر، براء بن عازب اور زید بن ارقم رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صحابہ کرام میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الرضاع/حدیث: 1157]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الرضاع 10 (1458)، سنن النسائی/الطلاق 48 (3512)، سنن ابن ماجہ/النکاح 59 (2006) مسند احمد (2/239) (تحفة الأشراف: 13134) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/الفرائض 17 (6750)، والحدود 23 (6818)، مسند احمد (2/280، 386، 409، 492) من غیر ہذا الوجہ۔»
وضاحت: ۱؎: فراش سے صاحب فراش یعنی شوہر یا مالک مراد ہے کیونکہ یہی دونوں عورت کو بستر پر لٹاتے اور اس کے ساتھ سوتے ہیں۔
۲؎: زانی کے لیے پتھر ہے، یعنی ناکامی و نامرادی ہے، بچے میں اس کا کوئی حق نہیں، ایک قول یہ بھی ہے کہ «حجر» سے مراد یہ ہے کہ اسے رجم کیا جائے گا، یعنی پتھر سے مار مار کر ہلاک کیا جائے گا، مگر یہ قول کمزور و ضعیف ہے کیونکہ رجم صرف شادی شدہ کو کیا جائے گا، حدیث کا مطلب یہ ہے کہ عورت جب بچے کو جنم دے گی تو وہ جس کی بیوی یا لونڈی ہو گی اسی کی طرف بچے کی نسبت ہو گی اور وہ اسی کا بچہ شمار کیا جائے گا، میراث اور ولادت کے دیگر احکام ان کے درمیان جاری ہوں گے خواہ کوئی دوسرا اس عورت کے ساتھ زنا کا ارتکاب کرنے کا دعویٰ کرے اور یہ بھی دعویٰ کرے کہ یہ بچہ اس کے زنا سے پیدا ہوا ہے اس کے ساتھ اس بچے کی مشابہت بھی ہو اور صاحب فراش کے ساتھ نہ ہو اس ساری صورتحال کے باوجود بچہ کو صاحب فراش کی طرف منسوب کیا جائے گا، اس میں زانی کا کوئی حق نہ ہو گا اور اگر اس نے اس کی نفی کر دی تو پھر بچہ ماں کی طرف منسوب ہو گا اور اس بچہ کا نسب ماں کے ساتھ جوڑا جائے گا زانی کے ساتھ نہیں۔