ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کی بکریوں کے ہار بٹتی تھی (جو قربانی کے لیے مکہ بھیجی جاتی تھیں)۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2787]
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار بکریوں کی ہدی بھیجی اور آپ نے ان کے گلوں میں ہار لٹکایا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2789]
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کی بکریوں کے ہار بٹتی تھی (اور آپ انہیں مکہ بھیجتے) پھر بھی آپ (حلال ہی رہتے تھے) محرم نہیں ہوتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2790]
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کی بکریوں کے قلادے (ہار) بٹا کرتی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم احرام نہیں باندھتے تھے (یعنی حلال رہتے تھے)۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2791]
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ہم بکری کے گلے میں ہار ڈالتے تھے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے (مکہ) بھیجتے تھے، اس حال میں کہ آپ حلال رہتے تھے، کسی چیز کو اپنے اوپر حرام نہیں کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2792]