Make PDF File
Note: Copy Text and paste to word file

صحيح البخاري
كِتَاب مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ
کتاب: اوقات نماز کے بیان میں
18. بَابُ وَقْتِ الْمَغْرِبِ:
باب: مغرب کی نماز کے وقت کا بیان۔
حدیث نمبر: 561
حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ، قَالَ:" كُنَّا نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ إِذَا تَوَارَتْ بِالْحِجَابِ".
ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یزید بن ابی عبید نے بیان کیا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے، فرمایا کہ ہم نماز مغرب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس وقت پڑھتے تھے جب سورج پردے میں چھپ جاتا۔

تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

صحیح بخاری کی حدیث نمبر 561 کے فوائد و مسائل
  الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:561  
حدیث حاشیہ:
نماز مغرب کا وقت غروب آفتاب ہے جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہے۔
ایک حدیث میں ہے کہ نماز مغرب اس وقت پڑھی جاتی جب سورج غروب ہوکر پردوں میں چھپ جاتا۔
(صحیح مسلم، المساجد، حدیث: 1440(636)
ایک روایت میں ہے کہ مغرب کی نماز کا وقت، اس وقت ہوتا ہے جب آفتاب غروب ہوکر بالکل غائب ہو جائے اور سرخی غائب ہونے تک رہتا ہے۔
(صحیح مسلم، المساجد، حدیث: 1385(612)
غروب آفتاب کے بعد مغرب کی جانب کچھ دیر تک سرخی رہتی ہے جو اکثر موسموں میں تقریباً ایک گھنٹے تک افق پر رہتی ہے۔
اس کے ختم ہونے پر مغرب کا وقت ختم ہوجاتا ہے اور عشاء کا وقت شروع ہوجاتا ہے۔
   هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 561   

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 417  
´مغرب کے وقت کا بیان۔`
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مغرب سورج ڈوبتے ہی پڑھتے تھے جب اس کے اوپر کا کنارہ غائب ہو جاتا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 417]
417۔ اردو حاشیہ:
سورج کی ٹکیہ کا افق میں غائب ہو جانا ہی غروب ہوتا ہے، اس کے بعد احتیاط کے کوئی معنی نہیں۔
   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 417   

  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 164  
´مغرب کے وقت کا بیان۔`
سلمہ بن الاکوع رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم مغرب اس وقت پڑھتے جب سورج ڈوب جاتا اور پردے میں چھپ جاتا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 164]
اردو حاشہ:
1؎:
یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ مغرب کا وقت سورج ڈوبنے کے بعد شروع ہوتا ہے اور اس سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ مغرب میں تاخیرنہیں کرنی چاہئے بلکہ ا سے اوّل وقت ہی میں ادا کرنا چاہئے۔
2؎:
سلف کا اس مسئلہ میں اختلاف ہے کہ مغرب کا وقت ممتد (پھیلا ہوا) ہے یا غیرممتد،
جمہور کے نزدیک سورج ڈوبنے سے لے کرشفق ڈوبنے تک پھیلا ہواہے،
اور شافعی اورابن مبارک کی رائے ہے کہ مغرب کا صرف ایک ہی وقت ہے اور وہ اوّل وقت ہے،
ان لوگوں کی دلیل جبریل علیہ السلام والی روایت ہے جس میں ہے کہ دونوں دنوں میں آپ نے مغرب سورج ڈوبنے کے فوراً بعد پڑھائی اور جمہور کی دلیل صحیح مسلم میں موجود ابوموسیٰ کی روایت ہے،
اس میں ہے ((ثُمَّ أخَّرَ المَغرِبَ حَتَّى كَانَ عِندَ سُقوطِ الشَّفقِ)) جمہور کی رائے ہی زیادہ صحیح ہے،
جمہور نے جبرائیل والی روایت کا جواب تین طریقے سے دیا ہے: 1- اس میں صرف افضل وقت کے بیان پر اکتفا کیا گیا ہے،
وقت جواز کو بیان نہیں گیا، 2- جبرائیل کی روایت متقدم ہے مکّی دور کی اور مغرب کا وقت شفق ڈوبنے تک ممتد ہونے کی روایت متاخر ہے مدنی دورکی، 3- یہ روایت جبرائیل والی روایت سے سند کے اعتبارسے زیادہ صحیح ہے۔
   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 164   

  حافظ عمران ایوب لاہوری حفظ اللہ، فوائد و مسال، سنن ابی داود 417  
«وَأَوَّلُ وَقْتِ الْمَغْرِبِ غَرُوبُ الشَّمْسِ وَآخِرُهُ ذَهَابُ الشَّفَقِ الْأحْمَرِ»
اور مغرب کے وقت کی ابتداء غروب آفتاب سے ہوتی ہے۱؎ اور اس کا آخری وقت سرخی غائب ہونے تک ہے۔۲؎۔
۱؎ ➊ حضرت جبرئیل علیہ السلام نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز مغرب دونوں دن اس وقت پڑھائی «حين و جبت الشمس» جب سورج ساقط (یعنی غروب) ہو گیا۔ [صحيح: صحيح ترمذي 127]
➋ حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ «ان رسول الله كان يصلي المغرب إذا غربت الشمس» بلا شبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز مغرب اس وقت پڑھتے تھے جب سورج غروب ہوتا تھا۔ صحیح بخاری میں یہ لفظ ہیں «إذا توارت بالحجاب» جب سورج پردے میں چھپ جاتا۔
[أحمد 54/4، بخاري 561، كتاب مواقيت الصلاة: باب وقت المغرب، مسلم 636، أبو داود 417، ترمذي 164، ابن ماجنة 688، طبراني كبير 6289، بيهقى 446/1، أبو عوانة 361/1، دارمي 275/1، ابن حبان 1523]
➌ غروب آفتاب سے نماز مغرب کا وقت شروع ہونے پر اجماع ہے۔ [نيل الأوطار 458/1]
۲؎ ➊ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک سائل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اوقات نماز کے متعلق سوال کیا...... (طویل حدیث ہے اور اس میں ہے کہ) «فأقام المغرب حين وقعت الشمس» آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مغرب اس وقت ادا کی جب سورج ساقط (یعنی غروب) ہو گیا اور دوسرے دن «ثم اخر الـمـغـرب حتـى كـــان عند سقوط الشفق» پھر مغرب کو شفق (یعنی سرخی) غائب ہونے تک لیٹ کیا۔
[مسلم: 614، كتاب المساجد ومواضع الصلاة: باب أوقات الصلوات الخمس، نسائي 523، أبو داود 395، أحمد 416/4، ترمذي 152، ابن مساحة 667، أبو عوانة 373/1، ابن خزيمة 166/1، دار قطني 262/1، بيهقي 371/1]
➋ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «وقت صلاة المغرب مالم يسقط ثور الشفق» نماز مغرب کا وقت شفق (سرخی) کا پھیلاؤ ختم ہونے تک ہے۔
[مسلم: 612، أيضا، طيالسي 2249، أحمد 210/2، أبو داود 396، شرح معاني الآثار 150/1، بيهقي 366/1، أبو عوانة 371/1]
حضرت جبرئیل علیہ سلام کی امامت والی حدیث میں جو نماز مغرب دونوں دن ایک ہی وقت (یعنی غروب آفتاب) میں پڑھنے کا ذکر ہے اس کی تین وجوہات بیان کی گئی ہیں:
➊ حضرت جبرئیل علیہ السلام نے صرف مختار و پسندیدہ وقت بیان کرنے پر ہی اکتفاء کیا ہے اور وقت جواز مکمل طور پر بیان ہی نہیں کیا۔
➋ حضرت جبرئیل علیہ السلام کی حدیث مقدم (یعنی مکہ کی) ہے اور جن احادیث میں مغرب کا وقت شفق غائب ہونے تک مذکور ہے وہ متاخر (یعنی مدینہ کی) ہیں اس لیے انہی پر عمل کرنا ضروری ہے۔
➌ یہ احادیث حضرت جبرئیل علیہ السلام کی حدیث سے سند کے لحاظ سے بھی زیادہ مضبوط ہیں اس لیے ان کو ترجیح دینا ضروری
ہے۔ [نيل الأوطار 444/1، تحفة الأحوذي 527/1]
(جمہور، حنابلہ، حنفیہ) اسی کے قائل ہیں۔
(شافعیؒ) نماز مغرب کا صرف ایک ہی وقت ہے اور وہ ابتدائی وقت ہے (انہوں نے حضرت جبرئیل علیہ السلام کی حدیث سے استدلال کیا ہے)۔
[شرح المهذب 33/3، المبسوط 144/1، المغنى 24/2، الإنصاف فى معرفة الراجح من الخلاف]
شافعی مذہب کی قدیم کتابوں میں ان کا یہی مذہب منقول ہے۔ [نيل الأوطار 458/1]
مذہب شافعی کی قدیم کتابوں میں «الأمــالي، مجمع الكافي، عيــون الـمـسـائل اور البحر المحيط» وغیرہ شامل ہیں اور جدید کتابوں میں «الأم، الإملاء، المختصرات،الرسالة اور الجامع الكبير» شامل ہیں۔ [طبقات ابن هداية الله ص:245]
اصحاب شافعی میں سے بعض نے نماز مغرب کے لیے دو وقت بھی بتلائے ہیں یعنی ایک غروب آفتاب اور دوسرا سرخی کا غائب ہونا۔
[نيل الأوطار 458/1]
(نوویؒ) یہی بات صحیح ہے۔ [شرح مسلم: 123/3، المجموع 34/3]

کیا شفق سے مراد سرخی ہے؟
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ «الشفق الحمرة» شفق سے مراد سرخی ہے۔
[عبدالرزاق 2122، بيهقي 373/1]
(صاحب قاموس) شفق وہ سرخی ہے جو غروب آفتاب سے لے کر عشاء تک، یا اس کے قریب تک آسمان پر نمودار رہتی ہے۔
[القاموس المحيط ص/808]
(صاحب مختار الصحاح) شفق سورج کی ایسی روشنی اور سرخی ہے جو رات کی ابتداء سے عشاء کے قریب تک رہتی ہے۔
(خلیلؒ) شفق سے مراد سرخی ہے۔
(فراءؒ) میں نے بعض عرب کو کہتے سنا ہے کہ اس پر ایسا کپڑا ہے گویا کہ وہ شفق ہے اور وہ سرخ تھا۔
[مختار الصحاح ص 144]
(صاحب منجد) شفق سے مراد غروب آفتاب کے بعد افق آسمان کی سرخی ہے۔ [المنجد ص/438]
(جمہور، احمدؒ، شافعیؒ) شفق سے مراد سرخی ہے۔
(ابو یوسفؒ، محمدؒ) اس کے قائل ہیں۔ علاوہ ازیں حضرت ابن عمر، حضرت ابن عباس، حضرت ابو ہریرہ، حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہما امام ابن ابی لیلیؒ اور امام ثوری وغیرہ کا بھی یہی موقف ہے۔
(ابوحنیفہؒ) شفق سے مراد ایسی سفیدی ہے جو عموما افق میں سرخی کے بعد بھی باقی رہتی ہے۔ ان کی دلیل یہ حدیث ہے
«و آخر وقت المغرب إذا اسود الشفق» لیکن یہ حدیث سندا ثابت نہیں ہے۔ [نصب الرايه 230/1]
احناف کے نزدیک اس مسئلہ میں صاحبین (امام ابو یوسفؒ، امام محمدؒ) کے قول پر ہی فتوی دیا جاتا ہے اور ایک روایت میں یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ امام ابو حنیفہ نے بعد میں اس کی طرف رجوع کر لیا تھا۔
[نيل الأوطار 467/1، المهذب 53/1، معنى المحتاج 123/1، اللباب 60/1، تحفة الأحوذى 488/1]
(راجح) جمہور کا موقف راجح ہے۔
(نوویؒ) شفق سے مراد سرخی ہے۔ [شرح مسلم 123/3]
(عبد الرحمن مبارکپوریؒ) شفق سرخی ہے۔ [تحفة الأحوذي 488/1]
(ملاعلی قاریؒ) زیادہ مشہور ہی ہے کہ شفق سرخی ہے۔ [أيضا]
(امیر صنعانیؒ) لغوی بحث کے لیے اہل لغت کی طرف رجوع کیا جائے نیز حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما اہل لغت میں سے ہیں، ان کی بات دلیل و حجت ہے خواہ موقوف ہی کیوں نہ ہو۔ [سبل السلام 159/1]
(صدیق حسن خانؒ) تمام لغت کی کتابیں، عرب اور ان کے بعد آنے والوں کے اشعار ی کی وضاحت کرتے ہیں (کہ شفق سے مراد سرخی ہے)۔ [الروضة الندية 201/1]
. . . اصل مضمون کے لئے دیکھئے . . .
فقہ الحدیث از عمران ایوب لاہوری، جلد اول، ص 305
   فقہ الحدیث، جلد اول، حدیث/صفحہ نمبر: 305