Note: Copy Text and paste to word file

مشكوة المصابيح
كِتَاب الْإِيمَانِ
ایمان کا بیان
مقدر لکھا جا چکا
حدیث نمبر: 113
‏‏‏‏عَن أبي الدرداد قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَرَغَ إِلَى كُلِّ عَبْدٍ مِنْ خَلْقِهِ مِنْ خَمْسٍ: مِنْ أَجَلِهِ وَعَمَلِهِ وَمَضْجَعِهِ وَأَثَرِهِ وَرِزْقِهِ". رَوَاهُ أَحْمَدُ
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ عزوجل ہر بندے کی تخلیق سے متعلق اس کی پانچ چیزوں، اس کی عمر، اس کے عمل، اس کے مرنے اور دفن ہونے کی جگہ، اس کے نقوش اور اس کے رزق سے فارغ ہو چکا۔  اس حدیث کو احمد نے روایت کیا ہے۔

تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه أحمد (5/ 197 ح 22066 و 22065) [وابن أبي عاصم في السنة: 303 وصححه ابن حبان، الموارد: 1811]
٭ فرج بن فضالة: تابعه مروان بن محمد وللحديث طرق.»

قال الشيخ الألباني: لم تتم دراسته

قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
مشکوۃ المصابیح کی حدیث نمبر 113 کے فوائد و مسائل
  حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث مشكوة المصابيح 113  
تحقیق الحدیث:
حسن ہے۔
● اس روایت کی سند میں فرج بن فضالہ ضعیف راوی ہے،
لیکن مروان بن محمد [السنة لابن ابي عاصم: 304] اور ولید بن مسلم [السنة: 305] وغیرہمانے اس کی متابعت کر رکھی ہے۔
اسی طرح وزیر بن صبیح [صحيح ابن حبان، الاحسان: 6117] اور عوام بن صبیح [كشف الاستار، زوائد البزار: 2152] وغیرہما نے یہی روایت یونس بن میسرہ بن حلبس سے بیان کر رکھی ہے، لہٰذا یہ روایت حسن ہے۔

فقہ الحدیث
«أجله» سے مراد موت اور مدت عمر ہے۔
«مضجعه» سے مراد لیٹنے کی جگہ یعنی قبر ہے۔
➌ تقدیر کا فیصلہ ازل سے ہو چکا ہے۔
   اضواء المصابیح فی تحقیق مشکاۃ المصابیح، حدیث/صفحہ نمبر: 113