Note: Copy Text and to word file

الادب المفرد
كِتَابُ السَّلامِ
كتاب السلام
467. بَابُ
بلا عنوان
حدیث نمبر: 1015
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا كِنَانَةُ مَوْلَى صَفِيَّةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ‏:‏ أَبْخَلُ النَّاسِ مَنْ بَخِلَ بِالسَّلاَمِ، وَالْمَغْبُونُ مَنْ لَمْ يَرُدَّهُ، وَإِنْ حَالَتْ بَيْنَكَ وَبَيْنَ أَخِيكَ شَجَرَةٌ، فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَبْدَأَهُ بِالسَّلامِ لَا يَبْدَأُكَ فَافْعَلْ‏.‏
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: سب سے بڑا بخیل وہ ہے جو سلام میں بخل کرے، اور نقصان میں وہ ہے جو سلام کا جواب نہ دے۔ اگر تیرے اور تیرے بھائی کے درمیان درخت حائل ہو جائے تو اگر طاقت رکھتا ہے کہ سلام میں پہل کرے تو کرنا۔

تخریج الحدیث: «ضعيف الإسناد موقوفًا: تفرد المصف بهذا التفصيل»

قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد موقوفًا
الادب المفرد کی حدیث نمبر 1015 کے فوائد و مسائل
  الشيخ الحديث مولانا عثمان منيب حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، الادب المفرد: 1015  
فوائد ومسائل:
مذکورہ روایت اس سند کے راوی کنانہ کی وجہ سے ضعیف ہے، تاہم اس کا پہلا جملہ مرفوعاً اور آخری جملہ مرفوعاً اور موقوفاً دونوں طرح صحیح ہے۔ (الصحیحة للالباني، ح:۵۱۸)
   فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1015