Note: Copy Text and to word file

صحيح البخاري
كِتَاب فَضَائِلِ الصحابة
کتاب: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کی فضیلت
13. بَابُ مَنَاقِبُ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ:
باب: زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان۔
حدیث نمبر: 3718
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي , سَمِعْتُ مَرْوَانَ، كُنْتُ عِنْدَ عُثْمَانَ أَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: اسْتَخْلِفْ، قَالَ: وَقِيلَ ذَاكَ، قَالَ: نَعَمْ الزُّبَيْرُ، قَالَ:" أَمَا وَاللَّهِ إِنَّكُمْ لَتَعْلَمُونَ أَنَّهُ خَيْرُكُمْ ثَلَاثًا".
مجھ سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے اسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، انہیں ان کے والد نے خبر دی کہ میں نے مروان سے سنا کہ میں عثمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں موجود تھا کہ اتنے میں ایک صاحب آئے اور کہا کہ کسی کو آپ اپنا خلیفہ بنا دیجئیے،۔ آپ نے دریافت فرمایا کیا اس کی خواہش کی جا رہی ہے؟ انہوں نے بتایا کہ جی ہاں، زبیر رضی اللہ عنہ کی طرف لوگوں کا رجحان ہے، آپ نے اس پر فرمایا ٹھیک ہے، تم کو بھی معلوم ہے کہ وہ تم میں بہتر ہیں، آپ نے تین مرتبہ یہ بات دہرائی۔
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3718 کے فوائد و مسائل
  الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3718  
حدیث حاشیہ:
حضرت عثمان ؓ نے اپنے بعد حضرت عبدالرحمان بن عوف ؓ کے متعلق نامزدگی لکھوائی تھی۔
اپنے کاتب حمران سے کہا تھا کہ اسے محض لکھنا، کسی سے اس کاذکر نہ کرنا،لیکن اس نے حضرت عبدالرحمان بن عوف ؓ کو بتادیا،اس پر حضرت عثمان ؓ نارض ہوئے اور حمران کو مدینہ بدرکررکے بصرہ بھیج دیا۔
حضرت عبدالرحمان چھ ماہ بعد فوت ہوگئے۔
ان کا سن وفات 32ھ ہے۔
حضرت عثمان سے لوگوں کا نامزدگی کامطالبہ کرنا کسی ناراضی کی وجہ سے نہ تھا بلکہ مرض کی وجہ سے تھا کہ شایداس سے بچ نہ سکیں کیونکہ مرض نکسیر ابتدائی دور میں پھوٹی تھی،جبکہ ابھی تک کوئی فتنہ وفساد نہ اٹھا تھا۔
(فتح الباري: 103/7)
   هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3718