Note: Copy Text and Paste to word file

موطا امام مالك رواية ابن القاسم
روزوں کے مسائل
روزے دار کی فضیلت
حدیث نمبر: 245
343- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ”والذي نفسي بيده، لخلوف فم الصائم أطيب عند الله من ريح المسك، يذر شهوته وطعامه وشرابه من أجلي، فالصيام لي وأنا أجزي به؛ كل حسنة بعشر أمثالها إلى سبعمئة ضعف إلا الصيام، فهو لي وأنا أجزي به.“
اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے ہاں کستوری سے زیادہ خوشبودار ہے، (اللہ فرماتا ہے) یہ اپنی شہوت، کھانا اور پینا میری وجہ سے چھوڑ دیتا ہے، پس روزے میرے لئے ہیں اور میں ہی ان کا بدلہ دوں گا۔ ہر نیکی (کا اجر) دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک ہے سوائے روزے کے، وہ میرے ہی لئے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔

تخریج الحدیث: «343- الموطأ (رواية يحييٰي بن يحييٰي 310/1 ح 697، ك 18 ب 22 ح 57) التمهيد 57/19، الاستذكار: 646، وأخرجه البخاري (1894) من حديث مالك به.»