Note: Copy Text and Paste to word file

سنن نسائي
كتاب التطبيق
کتاب: تطبیق کے احکام و مسائل
104. بَابُ : نَوْعٌ آخَرُ مِنَ التَّشَهُّدِ
باب: ایک اور طرح کے تشہد کا بیان۔
حدیث نمبر: 1176
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قال: سَمِعْتُ أَيْمَنَ وَهُوَ ابْنُ نَابِلٍ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ كَمَا" يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ بِسْمِ اللَّهِ وَبِاللَّهِ التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ أَسْأَلُ اللَّهَ الْجَنَّةَ وَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تشہد پڑھنا سکھاتے جیسے ہمیں قرآن کی سورۃ پڑھنا سکھاتے، فرماتے: «بسم اللہ وباللہ التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة اللہ وبركاته السلام علينا وعلى عباد اللہ الصالحين أشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله أسأل اللہ الجنة وأعوذ باللہ من النار» ۔

تخریج الحدیث: «سنن ابن ماجہ/الإقامة 24 (902)، (تحفة الأشراف: 2665)، ویأتی عند المؤلف برقم: 1282 (ضعیف) (اس کے راوی ’’أیمن‘‘ حافظہ کے کمزور ہیں، اور کسی نے اس پر ان کی متابعت نہیں کی ہے، دیکھئے اس حدیث پر خود مؤلف کا کلام حدیث رقم: 1282)»

قال الشيخ الألباني: ضعيف
سنن نسائی کی حدیث نمبر 1176 کے فوائد و مسائل
  فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1176  
1176۔ اردو حاشیہ:
➊ تمام قسم کے تشہد ایک جیسے ہیں۔ کہیں کہیں معمولی لفظی فرق ہے۔ معنیٰ میں کوئی فرق نہیں۔
➋ تمام تشہد تین چیزوں پر مشتمل ہیں: اللہ کی مجد و ثنا، نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرے صالحین پر سلام اور شہادتین (توحید و رسالت۔)
➌ آخری قسم کے تشہد کے شروع اور آخر میں اضافے (زائد کلمات) ہیں۔ شروع میں بسم اللہ اور آخر میں سوال و تعوذ، مگر اس حدیث کا راوی ایمن بن نابل متفرد ہے۔ کسی نے اس کی موافقت نہیں کی، لہٰذا یہ غیر معتبر ہے، یعنی یہ حدیث ضعیف ہے۔
➍ تمام قسم کے تشہدات میں نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بصیغۂ خطاب سلام کہا گیا ہے۔ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت ہے ورنہ خطاب سے نماز فاسد ہو جاتی ہے۔ کہا: جا سکتا ہے کہ صرف صیغہ خطاب کا ہے مقصود خطاب نہیں بلکہ دعا ہے کیونکہ آپ خود بھی انھی الفاظ سے تشہد پڑھا کرتے تھے۔ ان الفاظ کو پڑھتے وقت یہ عقیدہ نہیں ہونا چاہیے کہ آپ سلام سن رہے ہیں۔ ہاں، آپ کو پہنچایا جائے تو الگ بات ہے۔ اسی طرح آپ کے جوابی سلام کا بھی کوئی ذکر نہیں۔
«عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے اوصاف فاضلہ میں سے یہ دو وصف سب سے اعلیٰ ہیں، تبھی انہیں شہادتین میں داخل کیا گیا جو کہ کسی کے ایمان کی دلیل ہیں۔ «عَبْدُ» بہت بڑا اعزاز ہے، اس لیے ہر افضل مقام میں اس کا ذکر کیا گیا ہے، مثلاً: معراج و اسرا وغیرہ۔ دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل اور سورۂ نجم «أَسْرَى بِعَبْدِهِ» [بني إسرائیل: 1: 17] اور «فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ» [النجم: 10: 53]
   سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1176   

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
  فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1282  
´تشہد کی ایک اور قسم کا بیان۔`
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو تشہد اسی طرح سکھاتے تھے، جس طرح آپ ہمیں قرآن کی سورت سکھاتے تھے «بسم اللہ وباللہ التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة اللہ وبركاته السلام علينا وعلى عباد اللہ الصالحين أشهد أن لا إله إلا اللہ وأن محمدا عبده ورسوله وأسأل اللہ الجنة وأعوذ به من النار» اللہ کے نام سے اور اسی کے واسطے سے، تمام قولی فعلی اور مالی عبادتیں اللہ ہی کے لیے ہیں، سلام ہو آپ پر اے نبی! اور اللہ کی رحمت اور برکت نازل ہو آپ پر، سلامتی ہو ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر، میں گواہی دیتا ہوں کہ نہیں ہے کوئی معبود برحق سوائے اللہ کے اور یہ کہ محمد اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اور میں اللہ سے جنت مانگتا ہوں، اور آگ (جہنم) سے اس کی پناہ چاہتا ہوں۔ ابوعبدالرحمٰن (امام نسائی) کہتے ہیں: ہم کسی کو نہیں جانتے جس نے اس روایت پر ایمن بن نابل کی متابعت کی ہو، ایمن ہمارے نزدیک قابل قبول ہیں، لیکن حدیث میں غلطی ہے، ہم اللہ سے توفیق کے طلب گار ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1282]
1282۔ اردو حاشیہ: اس روایت میں تشہد کے آغاز میں «بِسْمِ اللَّهِ وَبِاللَّهِ» کا اضافہ ہے جو کسی اور راوی نے بیان نہیں کیا۔ اسی طرح آخر میں جنت و جہنم والے جملے بھی صرف اسی روایت میں ہیں اور کوئی راوی اس میں موافقت نہیں کرتا، لہٰذا یہ اضافے غریب اور شاذ ہیں، اس لیے معتبر نہیں، اگرچہ ایمن بن نابل ثقہ راوی ہے۔ ثقہ راوی کی روایت بھی اسی وقت معتبر ہو گی جب وہ کثیر ثقات یا اپنے سے اوثق (زیادہ ثقہ) راوی کے خلاف نہ ہو۔ بہرحال یہ روایت ضعیف ہے۔ (دیکھیے بعینہٖ یہی حدیث نمبر 1176 میں)
   سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1282