Note: Copy Text and Paste to word file

صحيح البخاري
كِتَاب الْوُضُوءِ
کتاب: وضو کے بیان میں
48. بَابُ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ:
باب: موزوں پر مسح کرنے کے بیان میں۔
حدیث نمبر: 204
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ"، وَتَابَعَهُ حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ، وَأَبَانُ، عَنْ يَحْيَى.
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبان نے یحییٰ کے واسطے سے نقل کیا، وہ ابوسلمہ سے، انہوں نے جعفر بن عمرو بن امیہ الضمری سے نقل کیا، انہیں ان کے باپ نے خبر دی کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو موزوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا۔ اس حدیث کی متابعت میں حرب اور ابان نے یحییٰ سے حدیث نقل کی ہے۔
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 204 کے فوائد و مسائل
  الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:204  
حدیث حاشیہ:

امام بخاری ؒ موزوں پر مسح کرنے کے اثبات کے لیے متعدد احادیث لائے ہیں، لیکن توقیت مسح یعنی اس کی مدت کے متعلق کوئی حدیث نہیں لائے، حالانکہ جمہور علماء اس کے قائل ہیں صرف امام مالک ؒ کے متعلق ایک قول نقل ہوا ہے کہ انسان جب تک موزے نہ اتارے مسح کرتا رہے۔
حضرت عمرؓ سے بھی اس جیسا قول نقل ہوا ہے۔
توقیت مسح کے متعلق حضرت علی ؒ اور حضرت صفوان بن عسال ؓ سے مروی احادیث درج ذیل ہیں۔
حضرت شریح بن ہانی نے حضرت عائشہ ؓ سے موزوں پر مسح کرنے کے متعلق سوال کیا تو انھوں نے فرمایا:
حضرت علی ؓ کے پاس جاؤ وہ مجھ سے زیادہ اس کے متعلق معلومات رکھتے ہیں، کیونکہ وہ سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رہا کرتے تھے۔
جب ان سے دریافت کیا گیا تو انھوں نے فرمایا:
رسول اللہ ﷺ نے مسافر کے لیے مسح کی مدت تین دن اور تین رات اور مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات مقرر فرمائی ہے۔
(صحیح مسلم، الطهارة، حدیث: 639 (267)
بعض مخصوص حالات یا جنگی ضرورت کے پیش نظر سات روز تک مسح کرنے کی گنجائش بھی موجود ہے۔
(سنن ابن ماجة، الطهارة، حدیث: 558)

حضرت صفوان بن عسال ؓ کہتے ہیں ہمیں رسول اللہ ﷺ نے حکم فرمایا کہ جب ہم وضو کی حالت میں موزے پہن لیں تو تین دن سفر میں اور ایک دن اقامت میں ان پر مسح کر سکتے ہیں۔
(صحیح ابن خزیمة: 99/1)
ان کے علاوہ ابو بکرہ ؓ سے بھی اس کے متعلق ایک حدیث مروی ہے جس کی تصحیح امام شافعی ؒ وغیرہ نے کی ہے۔
(فتح الباری: 405/1)

یہ بھی واضح رہے کہ موزوں پر مسح کرنے کا جواز وضو کے ساتھ خاص ہے، غسل کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
یعنی حالت جنابت اور ضرورت غسل میں موزوں پر مسح کرنا جائز نہیں۔
جیسا کہ حضرت صفوان بن عسال مرادی سے مروی حدیث میں اس کی صراحت ہے اور امام ابن خزیمہ ؒ نے اس پر ایک مستقل عنوان بھی قائم کیا ہے۔
موزوں پر مسح کی رخصت اس حدث میں ہے جو وضو کا باعث ہو اور جو حدث غسل کا باعث ہو اس میں مسح کرنے کی رخصت نہیں۔
حضرت زر بن حبیش کہتے ہیں کہ میں حضرت صفوان بن عسال مرادی ؓ کے پاس آیا اور اس سے موزوں پر مسح کرنے کے متعلق سوال کیا تو انھوں نے فرمایا کہ ہم سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ ہوتے تھے آپ نے ہمیں حکم دیا کہ تین دن اپنے موزے نہ اتاریں، لیکن جنابت میں ایسی اجازت نہ تھی۔
البتہ بول و براز نیند کے وقت یہ رخصت برقرار رہتی (صحیح ابن خزیمة: 98/1, 99)

متابعت میں ذکر کردہ حرب بن شداد کی روایت سنن نسائی (حدیث 119)
میں اور ابان بن یزید العطاء کی روایت (مسند أحمد: 179/4)
میں موصولاً بیان ہوئی ہے۔
(فتح الباری: 402/1)
   هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 204   

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
  مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري 205  
´موزوں پر مسح کرنے کے بیان میں`
«. . . أَخْبَرَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ عَلَى عِمَامَتِهِ وَخُفَّيْهِ "، وَتَابَعَهُ مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَمْرٍو، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . . . .»
. . . اوزاعی نے یحییٰ کے واسطے سے خبر دی، وہ ابوسلمہ سے، وہ جعفر بن عمرو سے، وہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے عمامے اور موزوں پر مسح کرتے دیکھا۔ اس کو روایت کیا معمر نے یحییٰ سے، وہ ابوسلمہ سے، انہوں نے عمرو سے متابعت کی اور کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا (آپ واقعی ایسا ہی کیا کرتے تھے)۔ . . . [صحيح البخاري/كِتَاب الْوُضُوءِ/بَابُ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ:: 205]
تشریح:
عمامہ پر مسح کے بارے میں حضرت علامہ شمس الحق صاحب محدث ڈیانوی قدس سرہ فرماتے ہیں:
«قلت احاديث المسح على العمامة اخرجه البخاري ومسلم والترمذي واحمد والنسائي وابن ماجة وغيرواحد من الائمة من طرق قوية متصلة الاسانيد وذهب اليه جماعة من السلف كما عرفت وقد ثبت عن النبى صلى الله عليه وسلم انه مسح على الراس فقط و على العمامة فقط و على الراس والعمامة معا والكل صحيح ثابت عن رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى الله عليه وسلم موجود فى كتب الائمة الصحاح والنبي صلى الله عليه وسلم مبين عن الله تبارك و تعالىٰ الخ .» [عون المعبود، ج1، ص: 56]
یعنی عمامہ پر مسح کی احادیث بخاری، مسلم، ترمذی، احمد، نسائی، ابن ماجہ اور بھی بہت سے اماموں نے پختہ متصل اسانید کے ساتھ روایت کی ہیں اور سلف کی ایک جماعت نے اسے تسلیم کیا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خالی سر پر مسح فرمایا اور خالی عمامہ پر بھی مسح فرمایا اور سر اور عمامہ ہر دو پر اکٹھے بھی مسح فرمایا۔ یہ تینوں صورتیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح طور پر ثابت ہیں اور ائمہ کرام کی کتب صحاح میں یہ موجود ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اللہ پاک کے فرمان «وامسحوا برؤسكم» [المائده: 6] کے بیان فرمانے والے ہیں۔

(لہٰذا آپ کا یہ عمل وحی خفی کے تحت ہے) عمامہ پر مسح کے بارے میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: «من لم يطهره المسح على العمامة فلاطهره الله رواه الخلال باسناده» یعنی جس شخص کو عمامہ پر مسح نے پاک نہ کیا پس اللہ بھی اس کو پاک نہ کرے۔

اس بارے میں حنفیہ نے بہت سی تاویلات کی ہیں۔ بعض نے کہا کہ عمامہ پر مسح کرنا بدعت ہے۔ بعض نے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشانی پر مسح کر کے پگڑی کو درست کیا ہو گا۔ جسے راوی نے پگڑی کا مسح گمان کر لیا۔ بعض نے کہا کہ چوتھائی سر کا مسح جو فرض تھا اسے کرنے کے بعد آپ نے سنت کی تکمیل کے لیے بجائے مسح بقیہ سر کے پگڑی پر مسح کر لیا۔ بعض نے کہا کہ پگڑی پر آپ نے مسح کیا تھا۔ مگروہ بعد میں منسوخ ہو گیا۔

حضرت العلام مولانا محمد انور شاہ صاحب دیوبندی:
مناسب ہو گا کہ ان جملہ احتمالات فاسدہ کے جواب میں ہم سرتاج علماء دیوبند حضرت مولانا انور شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا بیان نقل کر دیں۔ جس سے اندازہ ہو سکے گا کہ عمامہ پر مسح کرنے کا مسئلہ حق و ثابت ہے یا نہیں۔ حضرت مولانا فرماتے ہیں۔
میرے نزدیک واضح و حق بات یہ ہے کہ مسح عمامہ تو احادیث سے ثابت ہے اور اسی لیے ائمہ ثلاثہ نے بھی (جو صرف مسح عمامہ کو ادائے فرض کے لیے کافی نہیں سمجھتے) اس امر کو تسلیم کر لیا ہے اور استحباب یا استیعاب کے طور پر اس کو مشروع بھی مان لیا ہے۔ پس اگر اس کی کچھ اصل نہ ہوتی تو اس کو کیسے اختیار کر سکتے تھے۔ میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو صرف الفاظ پر جمود کر کے دین بناتے ہیں۔ بلکہ امور دین کی تعیین کے لیے میرے نزدیک سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ امت کا توارث اور ائمہ کا مسلک مختار معلوم کیا جائے۔ کیونکہ وہ دین کے ہادی و رہنما اور اس کے مینار و ستون تھے اور ان ہی کے واسطے سے ہم کو دین پہنچا ہے۔ ان پر اس کے بارے میں پورا اعتماد کرنا پڑے گا اور اس کے بارے میں کسی قسم کی بھی بدگمانی مناسب نہیں ہے۔ غرض مسح عمامہ کو جس حد تک ثابت ہوا ہمیں دین کا جزو ماننا ہے، اسی لیے اس کو بدعت کہنے کی جرات بھی ہم نہیں کر سکتے جو بعض کتابوں میں لکھ دیا گیا ہے۔ [انوارالباري، جلد 5، ص: 192]

برادران احناف جو اہل حدیث سے خواہ مخواہ اس قسم کے فروعی مسائل میں جھگڑتے رہتے ہیں، وہ اگر حضرت مولانا مرحوم کے اس بیان کو نظر انصاف سے ملاحظہ کریں گے تو ان پر واضح ہو جائے گا کہ مسلک اہل حدیث کے فروعی و اصولی مسائل ایسے نہیں ہیں جن کو باآسانی متروک العمل اور قطعی غیر مقبول قرار دے دیا جائے۔ مسلک اہل حدیث کی بنیاد خالص کتاب و سنت پر ہے۔ جس میں قیل و قال و آرائے رجال سے کچھ گنجائش نہیں ہے۔ جس کا مختصر تعارف یہ ہے۔
«ما اهل حديثيم دغارانه شناسيم
صد شكر كه در مذهب ماحيله وفن نيست»
   صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 205   

  الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:205  
205. حضرت عمرو بن امیہ ؓ ہی سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: میں نے نبی ﷺ کو اپنی پگڑی اور دونوں موزوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ معمر نے یحییٰ بن ابی کثیر سے بواسطہ ابو سلمہ عن عمرو، امام اوزاعی کی متابعت کی ہے، انھوں (عمرو) نے کہا: میں نے نبی اکرم ﷺ کو (ایسا کرتے) دیکھا ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:205]
حدیث حاشیہ:

امام بخاری ؒ نے اس روایت کو پگڑی پر مسح کرنے کے اضافے کے پیش نظر بیان کیا ہے۔
موزوں پر مسح کے لیے شرط یہ ہے کہ انھیں پہلے وضو کی حالت میں پہنا گیا ہو، لیکن پگڑی پر مسح کے لیے شرط نہیں ہے۔
جمہور کے نزدیک تنہا پگڑی کا مسح درست نہیں، بلکہ اگر سر کے کچھ حصے پر مسح کر لیا کچھ تکمیل کے طور پر پگڑی پرکیا تو اسے درست قراردیا جائے گا۔
بصورت دیگر نہیں، لیکن جمہور کا یہ موقف محل نظر ہے، کیونکہ رسول اکرم ﷺ سے مطلق پگڑی پر مسح کرنا بھی ثابت ہے۔
جیسا کہ حدیث باب میں ہے۔
پھر عمرو بن امیہ کے علاوہ سیدنا مغیرہ بن شعبہ ؓ سیدنا بلال ؓ اور سیدنا ابو ذر ؓ وغیرہ سے بھی اس کا ثبوت ملتا ہے۔
تفصیل کے لیے دیکھیے۔
(ذخیرة العقبیٰ شرح سنن النسائي: 400/2)
اس لیے راجح بات یہی ہے کہ صرف سر کا مسح سر کے بعض حصے اور پگڑی پر مسح اور صرف پگڑی پر مسح تینوں صورتیں جائز ہیں۔
بعض حضرات نے پگڑی پر مسح کے لیے کچھ شرائط ذکر کی ہیں۔
(ا)
پگڑی کمال طہارت کے بعد باندھی گئی ہو، جیسا کہ موزوں میں ہے۔
(ب)
پگڑی پورے سر کے لیے ساتر ہو۔
(ج)
اسے عرب کے طریقے پر باندھا گیا ہو یعنی داڑھی کے نیچے سے لا کر اس کو باندھ دیا گیا ہو جونہ اٹھانے سے اٹھے اور نہ کھولنے سے کھلے، یعنی ایسی صورت ہو جیسے پاؤں پر موزے چڑھائے جاتے ہیں۔
ہمارےنزدیک عمامے (پگڑی)
پر مطلقاً اور مستقلاً مسح درست ہے۔
اس کے لیے جو شرائط ذکر کی گئی ہیں ان کا کتاب و سنت میں کوئی ذکر نہیں۔
اس روایت پر یہ اعتراض کہ حضرت اوزاعی ؒ کے علاوہ اس اضافے کوکوئی دوسرا راوی بیان نہیں کرتا، لہذا اضافہ شاذ ہے۔
اس اعتراض کی کوئی حیثیت نہیں، کیونکہ امام اوزاعی ؓ ثقہ راوی ہیں اور ثقہ راوی کا اضافہ قبول ہوتا ہے۔

امام بخاری ؒ نے جرابوں پر مسح کے متعلق کوئی روایت ذکر نہیں کی۔
واضح رہے کہ دین اسلام کی بنیاد سہولت اور رفع حرج پر رکھی گئی ہے۔
اس کے احکام میں اس قدر آسانی ہے کہ مزید سہولت کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔
جرابوں پر مسح کی سہولت بھی اسی قبیل سے ہے۔
چنانچہ متعدد احادیث میں جرابوں پر مسح کرنے کی رخصت منقول ہے۔
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین تابعین عظام آئمہ دین اور محدثین کا بھی یہی موقف ہے کہ جرابوں پر مسح کیا جا سکتا ہے۔
حوالے کے طور پر چند احادیث حسب ذیل ہیں:
(1)
۔
حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جرابوں اور جوتوں پر مسح فرمایا۔
(مسند أحمد: 27/5)
حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دفعہ وضو فرمایا تو جرابوں اور جوتوں پر مسح کیا۔
میں نے عرض کیا کہ ان پر مسح کرنا جائز ہے؟ اس پر آپ نے فرمایا:
کیوں نہیں! یہ بھی موزے ہیں لیکن یہ اون کے ہیں۔
(الکنی والأسماء للدولابي: 181/1)
حضرت انس ؓ صحابی اور عربی الاصل ہیں وہ خف کے معنی بیان کرتے ہیں کہ وہ صرف چمڑے کا ہی نہیں ہوتا بلکہ ہر اس چیز کو شامل ہے جو قدم کو چھپالے۔
آپ کی یہ وضاحت معنی کے لحاظ سے نہایت دقیق ہے، کیونکہ ان کے نزدیک لفظ جوربین لغوی وضعی معنی کے لحاظ سے خفین کے مدلول میں داخل ہے اور خفین پر مسح میں کوئی اختلاف نہیں، لہٰذا جرابوں پر مسح میں بھی کسی اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں۔
حضرت انس ؓ کی یہ روایت متعدد طرق سے مروی ہے۔
(محلی ابن حزم: 85/2)
فقہائے کرام نے جرابوں پر مسح کرنے کے متعلق بھاری بھرکم شرائط عائد کر رکھی ہیں جن کا کتاب و سنت میں کوئی ثبوت نہیں. مثلاً وہ اتنی موٹی ہوں کہ ان میں پانی جذب نہ ہوتا ہو وہ پھٹی ہوئی نہ ہوں وغیرہ۔
واقعہ یہ ہے کہ جب تک جراب کا نام اور کام باقی ہے اس پر مسح کیا جا سکتا ہے، کیونکہ ان کے صحیح و سالم ہونے کی شرط لگانے کا کوئی ثبوت نہیں۔
امام ثوری ؒ فرماتے ہیں جب تک موزے پاؤں میں رہیں ان پر مسح کرتے رہو، مہاجرین و انصار کے موزے پھٹے پرانے اور پیوند لگے ہوتے تھے۔
(محلی ابن حزم: 102/2)
اسی طرح جرابیں جب تک گرد و غبار سے بچاؤ اور سردی سے تحفظ کا کام دیتی ہیں ان پر مسح کرنے میں کوئی حرج نہیں، خواہ موٹی ہوں یا باریک، خواہ پھٹی پرانی ہی کیوں نہ ہوں۔
نوٹ:
موزے یا جرابوں پر مسح کرنے کا آغاز پہننے کے بعد نہیں بلکہ وضو ٹوٹنے کے بعد پہلے مسح سے ہو گا۔
   هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 205