Note: Copy Text and to word file

سنن ابي داود
كِتَاب الطَّهَارَةِ
کتاب: طہارت کے مسائل
18. باب كَرَاهِيَةِ مَسِّ الذَّكَرِ بِالْيَمِينِ فِي الاِسْتِبْرَاءِ
باب: استنجاء کے وقت عضو تناسل (شرمگاہ) کو داہنے ہاتھ سے چھونا مکروہ ہے۔
حدیث نمبر: 34
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ بُزَيْعٍ،حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمَعْنَاهُ.
اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے۔

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15943)، مسند احمد (6/265) (صحیح)» ‏‏‏‏

قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف
إسناده ضعيف
سعيد بن أبي عروبة مدلس (طبقات المدلسين: 2/50 وھو من الثالثة) وعنعن
والحديث السابق (الأصل: 32 وسنده حسن) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 14
سنن ابی داود کی حدیث نمبر 34 کے فوائد و مسائل
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 34  
فوائد و مسائل:
سنن ابي داود حدیث [33، 34] ضعیف ہیں۔ تاہم سنن ابي داود حدیث [32] صحیح ہے اور اس سے یہ مسئلہ ثابت ہے جیسا کہ اس کے فوائد کی تفصیل گزری۔
   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث/صفحہ نمبر: 34