Make PDF File
Note: Copy Text and paste to word file

صحيح مسلم
كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة
مسجدوں اور نماز کی جگہ کے احکام
31. باب أَوْقَاتِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ:
باب: پنجگانہ اوقات نماز کا بیان۔
حدیث نمبر: 1386
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ وَاسْمَهْ يَحْيَى بْنُ مَالِكٍ الأَزْدِيُّ ، وَيُقَالُ: الْمَرَاغِيُّ وَالْمَرَاغ: حَيٌّ مِنَ الأَزْدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " وَقْتُ الظُّهْرِ، مَا لَمْ يَحْضُرِ الْعَصْرُ، وَوَقْتُ الْعَصْرِ، مَا لَمْ تَصْفَرَّ الشَّمْسُ، وَوَقْتُ الْمَغْرِبِ، مَا لَمْ يَسْقُطْ ثَوْرُ الشَّفَقِ، وَوَقْتُ الْعِشَاءِ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ، وَوَقْتُ الْفَجْرِ، مَا لَمْ تَطْلُعِ الشَّمْسُ ".
معاذ عنبری نے کہا: ہمیں شعب نے قتادہ سے، انھوں نے ابو ایوب سے حدیث سنائی۔ ابو ایوب کا نام یحییٰ بن مالک ازدی ہے۔ ان کو مراغی بھی کہا جاتا ہے اور مراغ قبیلہ ازدہی کی ایک شاخ ہے۔ انھوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہا سے اور انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ظہر کا وقت تب تک ہےجب تک عصر کا وقت شروع نہ ہو، اور عصر کا وقت ہے جب تک سورج زرد نہ ہو، اور مغرب کا وقت ہے جب تک شفق غروب نہ ہو، اور عشاء کا وقت آدھی رات تک ہے اور فجر کا وقت ہے جب تک سورج طلوع نہ ہو۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ظہر کا وقت، عصر کا وقت شروع ہونے تک ہے اور عصر کا وقت، سورج کے زرد ہونے سے پہلے تک ہے اور مغرب کا وقت اس وقت تک ہے جب تک شفق غروب نہ ہو اور عشاء کا وقت آدھی رات تک ہے اور فجر کا وقت، جب تک سورج طلوع نہ ہو۔

تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

صحیح مسلم کی حدیث نمبر 1386 کے فوائد و مسائل
  حافظ عمران ایوب لاہوری حفظ اللہ، فوائد و مسال، صحیح مسلم 1386  
عشاء کا ابتدائی وقت اور اس کی انتہاء
«وَهُوَ أَوَّلُ الْعِشَاءِ وَآخِرُهُ نِصْفُ اللَّيْل»
اور یہی عشاء کا ابتدائی وقت ہے۔ ۱؎ اور اس کی انتہاء آدھی رات کو ہوتی ہے۔ ۲؎
۱؎۔ ➊ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی جس روایت میں ہے کہ ایک سائل نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اوقات نماز کے متعلق پوچھا۔۔۔۔۔۔۔۔ اس میں ہے کہ پہلے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «فا قام العشاء حين غاب الشفق» نماز عشاء اس وقت پڑھائی جب شفق غائب ہوئی۔ [مسلم 614، كتاب المساجد ومواضع الصلاة: باب أوقات الصلوات الخمس، نسائي 523، أبو داود 395]
➋ حضرت جبرئیل علیہ السلام کی امامت والی حدیث میں پہلے دن عشاء کا یہ وقت مذکور ہے «حين غاب الشفق» جب شفق غائب ہوئی۔ [صحيح: صحيح ترمذي 127، نسائي 513]
۲؎۔ ➊ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «وقت صلاة العشاء إلى نصف الليل» عشاء کی نماز کا وقت آدھی رات تک ہے۔
[مسلم: 612، كتاب المساجد ومواضع الصلاة: باب أوقات الصلوات الخمس، طيالسي 2249، أحمد 210/2، أبو داود 396، شرح معاني الآثار 150/1، بيهقى 366/1]
➋ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا «و إن آخر وقتها العشاء حين ينتصف الليل» بلاشبہ عشاء کا آخری وقت آدھی رات تک ہے۔
[صحيح: صحيح ترمذي 129، كتاب الصلاة: باب ما جاء فى مواقيت الصلاة عن النبي، الصحيحة 1696، ترمذي 151، احمد 232/2]
نماز عشاء کے آخری وقت میں فقہاء نے اختلاف کیا ہے۔
(احمدؒ، مالکؒ، شافعیؒ) عشاء کا آخری وقت ایک تہائی رات تک ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ، حضرت عمر رضی الله عنہ، امام قاسمؒ اور حضرت عمربن عبد العزیزؒ کا بھی یہی موقف ہے۔
(ابو حنیفہؒ) عشاء کا آخری وقت آدھی رات تک ہے۔
(جمہور، طحاویؒ) عشاء کا آخری وقت طلوع فجر تک ہے۔ [تحفة الأحوذي 528/1، نيل الأوطار 469/1، عارضة الأحوذي 277/1]
(شوکانیؒ) عشاء کا آخری اختیاری وقت آدھی رات تک ہے اور جائز و اضطراری وقت فجر تک ہے۔ [نيل الأوطار 470/1]
(نوویؒ) اسی کے قائل ہیں۔ [شرح مسلم 123/3]
(سید سابقؒ) اسی کو ترجیح دیتے ہیں۔ [فقه السنة 92/1]
(ابن قدامهؒ) اختیاری وقت ایک تہائی رات تک اور وقت ضرورت فجر ثانی طلوع ہونے تک ہے۔ [المغنى 28/1]
(راجح) حدیث کے واضح الفاظ «نصف الليل» تک ہی عشاء کا آخری وقت بیان کرتے ہیں۔
(حافظ ابن حجرؒ) عشاء کا وقت فجر تک لمبا ہونے کے متعلق میں نے کوئی واضح حدیث نہیں دیکھی۔ [تحفة الأحوذى 528/1]
(ابن عربیؒ) عشاء کا آخری وقت آدھی رات تک ہے۔ [عارضة الأحوذي 277/1]
(عبد الرحمن مبارکپوریؒ) عشاء کا آخری وقت آدھی رات تک ہے۔ [تحفة الأحوذى 529/1]
(صدیق حسن خانؒ) اسی کے قائل ہیں۔ [الروضة الندية 202/1]
(البانیؒ) حق بات یہی ہے کہ عشاء کا وقت آدھی رات تک ہے۔ [تمام المنة ص/ 142]
جو لوگ عشاء کا وقت فجر تک بتلاتے ہیں ان کی دلیل یہ حدیث ہے «ليس فى النوم تفريط إنما التفريط على من لــم يـصـل الصلاة حتى يحيى وقت الأخرى» کوتاہی نیند میں نہیں ہے (بلکہ) صرف کوتاہی ایسے شخص پر ہے جس نے نماز ادا نہ کی حتی کہ دوسری نماز کا وقت آگیا۔
[مسلم: 681٬311، كتاب المساجد ومواضع الصلاة: باب قضاء الصلاة الفائتة واستحباب تعجيل قضائها، أبو داود 441، أحمد 298/5، ترمذي 177، ابن ماجة 698]
اس کا جواب یوں دیا گیا ہے کہ یہ حدیث وقت کی تحدید وتعیین کے لیے نہیں ہے بلکہ اس میں صرف ایسے شخص کی نافرمانی کا ذکر ہے جو ایک نماز کو دوسری نماز تک لیٹ کرتا ہے۔ [تمام المنة ص: 141، المحلى 178/3]
. . . اصل مضمون کے لئے دیکھئے . . .
فقہ الحدیث از عمران ایوب لاہوری، جلد اول، ص 309
   فقہ الحدیث، جلد اول، حدیث/صفحہ نمبر: 309   

  الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1386  
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
ثَورُ الشَّفَق:
سرخی کا پھیلاؤ اور انتشار۔
   تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1386   

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
  علامه سيد بديع الدين شاه راشدي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح مسلم 1388  
´نماز ظہر کا وقت`
«. . . وقت الظهر إذا زالت الشمس، وكان ظل الرجل كطوله، ما لم يحضر العصر . . .»
ظہر کا وقت اس وقت تک ہوتا ہے جب سورج ڈھل جائے اور رہتا ہے جب تک کہ آدمی کا سایہ اس کے قد کے برابر ہو جائے جب تک کہ عصر کا وقت نہ آئے۔۔۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة: 1388]
تفقه
اس حدیث سے صراحۃً ثابت ہوا کہ نماز ظہر کا وقت ایک مثل تک رہتا ہے اور ایک مثل گزرنے کے بعد نماز عصر کا وقت شروع ہو جاتا ہے اور ظہر کے وقت کا دو مثلوں تک باقی رہنا کسی حدیث سے ثابت نہیں۔

باقی جو صحیح بخاری کی حدیث پیش کی جاتی ہے، جس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں تھے اور مؤذن نے اذان دینے کا ارادہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ٹھنڈا ہونے دو، مؤذن نے (تھوڑی دیر بعد) پھر چاہا کہ اذان دے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ٹھنڈا ہونے دو یہاں تک کہ ہم نے ٹیلوں کا سایہ ڈھلا ہوا دیکھ لیا . . . الخ۔ [صحیح بخاری ح 539] وہ ہم پر حجت نہیں بن سکتی، کیونکہ اول تو یہ سفر کا واقعہ ہے۔ چنانچہ خود مذکورہ حدیث شریف میں اس کی تصریح موجود ہے اور حدیث شریف میں سفر وغیرہ میں «جمع بين الصلوتين» کی اجازت وارد ہے۔ پس ہو سکتا ہے کہ آپ نے «جمع بين الظهر والعصر» کے ارادہ سے تاخیر فرمائی ہو۔

علاوہ ازیں یہ حدیث صحیح بخاری کے دوسرے مقام «باب الابراد بالظهر فى شدة الحر» میں بھی موجود ہے اور وہاں بھی یہ الفاظ «حتي راينا فى التلول» کے ہیں۔ اب ان دونوں لفظوں کے ملانے سے یہ معلوم ہتا ہے کہ سایہ کے برابر ہونے سے یہ مراد ہے کہ سایہ ٹیلوں کی چوٹی سے جڑ تک پہنچ جائے، کیونکہ ٹیلوں کا سایہ اکثر اسی وقت دیکھنے میں آتا ہے، جبکہ ان کی چوٹی سے برابر ہو جاتا ہے اور یہ قاعدہ مسلمہ ہے کہ احادیث ایک دوسری کی تفسیر ہوا کرتی ہیں، تو معلوم ہوا کہ ظہر کا وقت ایک مثل تک ہے اور اس کے بعد عصر کا وقت شروع ہو جاتا ہے۔
   اہلحدیث کے امتیازی مسائل، حدیث/صفحہ نمبر: 14   

  علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 129  
´نماز ظہر کا وقت ایک مثل تک`
«. . . ان النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: وقت الظهر إذا زالت الشمس وكان ظل الرجل . . .»
. . . نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز ظہر کا وقت زوال آفتاب سے شروع ہوتا ہے اور نماز عصر کے وقت کے آغاز تک رہتا ہے . . . [بلوغ المرام/كتاب الطهارة: 129]
لغوی تشریح:
«كِتَابُ الصَّلَاةِ» صلاۃ کے لغوی معنی دعا کے ہیں اور اصطلاح شرع میں معروف عبادت کو کہتے ہیں۔
«بَابُ الْمَوَاقِيتِ» «مَوَاقِيت»، میقات کی جمع ہے۔ اس سے مراد وہ وقے محدود ہے جو کسی کام کے لیے مقرر کیا ہو، بلحاظ زمان یا مکان۔ یہاں اس سے مراد نمازوں کی ادائیگی کے لیے اللہ تعالیٰ کا مقرر و متعین فرمایا ہوا وقت ہے۔
«إِذَا زَالَت الشَّمْسُ» جب سورج زوال پذیر ہو، یعنی آسمان کے عین درمیان سے مغرب کی جانب ڈھل جائے۔
«وَكَانَ ظِلُّ الرَّجُلِ كَطُولِهِ» اور انسان کا سایہ اپنے قد کے برابر ہو، یعنی ظہر کا وقت تب تک رہتا ہے جب تک کہ ہر چیز کا سایہ اصل، چیز کے قد کے برابر ہو جائے۔
«مَالَمْ يَحْضُرُ الْعَصر» جب تک نماز عصر کا وقت نہ ہو جائے، یعنی آدمی کا اصلی سایہ اس کے قد کے برابر ہونے کے ساتھ عصر کا وقت شروع نہ ہو جائے۔
«اَلشَّفَقُ» غروب آفتاب کے بعد افق آسمان پر جو سرخی نمودار ہوتی ہے۔
«إِلَيٰ نِصْفِ اللَّيْلِ الْأَوْسَطِ» یہاں لفظ «اَلْأَوْسَطِ» «نِصْفِ اللَّيْلِ» کی صفت بن رہا ہے اور اس سے مراد رات کا پہلا نصف ہے۔ اس پہلے نصف حصے کو اوسط (درمیانے) سے اس لیے تعبیر کیا گیا ہے کہ رات کو دو حصوں میں تقسیم کریں تو پہلا نصف حصہ رات کے وسط اور درمیان پر پہنچ کر ختم ہو جاتا ہے، لہٰذا رات کے پہلے نصف حصے تک نماز عشاء کا وقت رہتا ہے۔
«نَقِيَّةٌ» «فعلية» کے وزن پر صاف ستھرا کے معنی میں استعمال ہوا ہے، یعنی ایسا صاف شفاف جس میں زرد رنگ کی آمیزش نہ ہو۔
«مُرْتَفِعَةٌ» آسمان میں بلند وبالا ہو اور مغرب کی جانب مائل نہ ہو۔ حدیث بالا میں نماز کی ادائیگی کے اوقات بیان کیے گئے ہیں۔ نماز عشاء کا آخری وقت کون سا ہے؟ اس میں مختلف آراء ہیں۔ جمہور علماء کہتے ہیں کہ یہ طلوع فجر تک ہے۔ اور اس حدیث میں جو بیان ہوا ہے اس سے مراد مختار وقت ہے اور بعض کا یہ بھی قول ہے کہ آدھی رات کو عشاء کی نماز کا وقت ختم ہو جاتا ہے۔

فوائد و مسائل:
➊ اس حدیث سے ظہر کا وقت ایک مثل تک ثابت ہوتا ہے، اس کے بعد عصر کا وقت شروع ہو جاتا ہے۔ ائمہ ثلاثہ: امام شافعی، امام مالک، امام احمد کے علاوہ امام ابویوسف اور امام زفر رحمہم اللہ کا بھی یہی مذہب ہے۔ ایک روایت کی رو سے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی رائے بھی اسی طرح ہے لیکن ان کی طرف جو مشہور روایت منسوب ہے وہ دو مثل کی ہے۔
➋ علمائے احناف نے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی اس روایت کو قبول کیا ہے مگر کسی صحیح مرفوع حدیث سے دو مثل تک ظہر کا وقت ثابت نہیں۔
➌ بہتر یہی ہے کہ نماز ظہر ایک مثل کے درمیان ہی میں ادا کر لی جائے۔ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے دونوں شاگرد قاضی ابویوسف اور امام محمد کا بھی یہی فیصلہ ہے۔
➍ اس حدیث میں مذکور ایک مسئلہ شفق کا بھی ہے۔ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ غروب آفتاب کے بعد افق آسمان پر نمودار ہونے والی سرخی کے فوراً بعد جو سفیدی ظاہر ہوتی ہے شفق سے وہ مراد ہے۔ اس کے برعکس امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس سے مراد وہ سرخی ہے جو غروب شمس سے ساتھ افق آسمان پر نمایاں ہوتی ہے۔ قرین قیاس بھی یہی بات معلوم ہوتی ہے۔
➎ اس حدیث سے ثابت ہوا کہ طلوع آفتاب اور غروب آفتاب کے وقت نماز پڑھنا ممنوع ہے کیونکہ اس وقت سورج شیطان کے دو سینگوں میں طلوع ہوتا ہے اور وہ آفتاب پرستوں کا مخصوص وقت ہے۔ اسی طرح عین غروب شمس کے وقت بھی نماز شروع نہیں کرنی چاہیے۔
➏ اس حدیث سے اوقات صلوات خمسہ بھی معلوم ہوتے ہیں اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ہر نماز کے لیے اول اور آخر وقت یہی ہے جو اس حدیث میں مذکور ہے۔
➐ رہا یہ مسئلہ کہ دھوپ کے زردی مائل ہو جانے کے بعد عصر کا وقت اور آدھی رات کے بعد عشاء کا وقت رہتا بھی ہے یا نہیں؟ اس حدیث سے یہی ثابت ہو رہا ہے کہ مختار وقت نہیں رہتا۔ سورج کے زرد ہونے کے بعد نماز پڑھنے والے کو حدیث میں منافق کہا گیا ہے۔

راویٔ حدیث:
(سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ) ان کی کنیت ابوعبداللہ اور بریدہ بن حصیب نام ہے۔ بریدہ اور حصیب دونوں تصغیر کے ساتھ ہیں۔ قبیلہ اسلم سے ہونے کی وجہ سے اسلمی کہلائے۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت مدینہ کے دوران میں اس قبیلے کے پاس سے گزرے تو اس موقع پر جو تقریباً 80 آدمی مسلمان ہوئے ان میں یہ بھی شامل تھے۔ غزوہ احد کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ تمام غزوات میں شریک ہوئے۔ صلح حدیبیہ اور بیعت رضوان میں حاضر تھے۔ بصرہ کی طرف چلے گئے تھے، پھر وہاں سے خراسان کی جانب جہاد کے لیے نکل گئے اور مرہ میں قیام پذیر ہوئے۔ وہیں 62 یا 63 ہجری میں ان کی وفات ہوئی اور تدفین عمل میں آئی۔
(سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ) ان سے مراد عبداللہ بن قیس اشعری رضی اللہ عنہ ہیں۔ جلیل القدر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ حبشہ کی طرف ہجرت کی۔ غزوہ خیبر کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ زبید اور عدن پر عامل مقرر ہوئے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں یہ کوفہ اور بصرہ کے والی مقرر ہوئے۔ ان کے ہاتھوں تستر فتح ہوا اور دیگر بہت سے شہر بھی انہوں نے فتح کیے۔ 42 ہجری میں وفات پائی۔ اس کے علاوہ بھی سنِ وفات منقول ہے۔
   بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 129   

  الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1385  
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جن تم فجر کی نماز پڑھ لو تو اس کا وقت اس وقت تک باقی ہے جب سورج کا اوپر کا کنارہ نہ نکلے، پھر جب تم ظہر پڑھ لو تو اس کا وقت عصر تک باقی ہے جب تم عصر پڑھ لو تو اس کا وقت سورج کے زرد ہونے تک باقی ہے اور جب تم مغرب کی نماز پڑھو تو اس کا وقت شفق (سرخی) کے غروب ہونے تک باقی ہے اور جب تم عشاء پڑھ لو تو اس کا وقت... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:1385]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
جب سورج غروب ہو جاتا ہے تو مغرب کی طرف تقریباً ایک گھنٹہ تک سرخی رہتی ہے اس کے بعد وہ سرخی ختم ہو جاتی ہے اس کی جگہ کچھ دیر تک (تقریباً آدھ گھنٹہ)
سفیدی رہتی ہے پھر وہ سفیدی بھی غائب ہو جاتی ہے اور اس کی جگہ سیاہی آ جاتی ہے۔
صاحبین (امام ابو یوسف،
امام محمد)

اور امام مالک رحمۃ اللہ علیہ،
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ اور امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک شفق سے مراد سرخی اور امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے مشہور قول کے مطابق اس سے مراد سرخی اور سفیدی دونوں ہیں یعنی سیاہی آنے پر عشاء کا وقت ہو گا اور ایک قول دوسرے آئمہ کے مطابق ہے اس لیے عام طور پر آج کل عمل عام آئمہ کے قول کے مطابق ہے۔
   تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1385   

  الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1388  
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب سورج ڈھل جائے تو ظہر کا وقت ہو جاتا ہے اور آدمی کے سایہ اس کے برابر ہونے تک رہتا ہے، جب تک عصر کا وقت نہ ہو جائے اور عصر کا وقت سورج کے زرد ہونے تک رہتا ہے اور مغرب کی نماز کا وقت سرخی غائب ہونے تک رہتا ہے اور عشاء کی نماز کا وقت درمیانی رات کے نصف تک رہتا ہے اور صبح کی نماز کا وقت طلوع فجر سے سورج نکلنے تک رہتا ہے، جب سورج نکلنے... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:1388]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
جب سورج طلوع یا غروب ہوتا ہے تو شیطان اپنے سینگ سورج کے قریب کر دیتا ہے تاکہ ان اوقات میں جو لوگ سورج کو سجدہ کریں وہ یوں لگے کہ وہ اس لعین کو سجدہ کر رہے ہیں اصل مقصود کافروں کی مشابہت سے روکنا ہے کہ وہ ان اوقات میں سورج کی پرستش کرتے ہیں اس لیے مسلمانوں کو ان اوقات میں نماز نہیں پڑھنی چاہیے لیکن شیطان کے دو قرنوں اور ان کے درمیان سورج کے طلوع و غروب کی حقیقت ہمارے معلومات کے دائرہ سے اسی طرح باہر ہے جس طرح شیطان کی پوری حقیقت جاننا باہر ہے۔
   تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1388   

  الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1389  
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے نمازوں کے اوقات کے بارے میں دریافت کیا گیا؟ تو آپﷺ نے فرمایا: فجر کی نماز کا وقت اس وقت تک رہتا ہے جب تک سورج کا ابتدائی کنارہ نہ نکلے اور ظہر کا وقت اس وقت ہوتا ہے جب سورج آسمان کے درمیان سے مغرب کی طرف ڈھل جائے اور اس وقت تک رہتا ہے جب تک عصر کا وقت نہیں ہوتا اور عصر کی نماز کا وقت اس وقت تک ہے جب تک سورج زرد نہ پڑ جائے اور اس... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:1389]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
آپ نے سائل کے جواب میں اکثر نمازوں کا آخری وقت بتایا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ سائل یہی پوچھنا چاہتا تھا کہ پانچوں نمازوں کے اوقات میں کتنی وسعت ہے اور ہر نماز کس وقت تک پڑھی جا سکتی ہے۔
   تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1389   

  حافظ عمران ایوب لاہوری حفظ اللہ، فوائد و مسال، سنن ابی داود 396  
«وَأَوَّلُ وَقْتِ الْمَغْرِبِ غَرُوبُ الشَّمْسِ وَآخِرُهُ ذَهَابُ الشَّفَقِ الْأحْمَرِ»
اور مغرب کے وقت کی ابتداء غروب آفتاب سے ہوتی ہے۱؎ اور اس کا آخری وقت سرخی غائب ہونے تک ہے۔۲؎۔
۱؎ ➊ حضرت جبرئیل علیہ السلام نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز مغرب دونوں دن اس وقت پڑھائی «حين و جبت الشمس» جب سورج ساقط (یعنی غروب) ہو گیا۔ [صحيح: صحيح ترمذي 127]
➋ حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ «ان رسول الله كان يصلي المغرب إذا غربت الشمس» بلا شبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز مغرب اس وقت پڑھتے تھے جب سورج غروب ہوتا تھا۔ صحیح بخاری میں یہ لفظ ہیں «إذا توارت بالحجاب» جب سورج پردے میں چھپ جاتا۔
[أحمد 54/4، بخاري 561، كتاب مواقيت الصلاة: باب وقت المغرب، مسلم 636، أبو داود 417، ترمذي 164، ابن ماجنة 688، طبراني كبير 6289، بيهقى 446/1، أبو عوانة 361/1، دارمي 275/1، ابن حبان 1523]
➌ غروب آفتاب سے نماز مغرب کا وقت شروع ہونے پر اجماع ہے۔ [نيل الأوطار 458/1]
۲؎ ➊ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک سائل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اوقات نماز کے متعلق سوال کیا...... (طویل حدیث ہے اور اس میں ہے کہ) «فأقام المغرب حين وقعت الشمس» آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مغرب اس وقت ادا کی جب سورج ساقط (یعنی غروب) ہو گیا اور دوسرے دن «ثم اخر الـمـغـرب حتـى كـــان عند سقوط الشفق» پھر مغرب کو شفق (یعنی سرخی) غائب ہونے تک لیٹ کیا۔
[مسلم: 614، كتاب المساجد ومواضع الصلاة: باب أوقات الصلوات الخمس، نسائي 523، أبو داود 395، أحمد 416/4، ترمذي 152، ابن مساحة 667، أبو عوانة 373/1، ابن خزيمة 166/1، دار قطني 262/1، بيهقي 371/1]
➋ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «وقت صلاة المغرب مالم يسقط ثور الشفق» نماز مغرب کا وقت شفق (سرخی) کا پھیلاؤ ختم ہونے تک ہے۔
[مسلم: 612، أيضا، طيالسي 2249، أحمد 210/2، أبو داود 396، شرح معاني الآثار 150/1، بيهقي 366/1، أبو عوانة 371/1]
حضرت جبرئیل علیہ سلام کی امامت والی حدیث میں جو نماز مغرب دونوں دن ایک ہی وقت (یعنی غروب آفتاب) میں پڑھنے کا ذکر ہے اس کی تین وجوہات بیان کی گئی ہیں:
➊ حضرت جبرئیل علیہ السلام نے صرف مختار و پسندیدہ وقت بیان کرنے پر ہی اکتفاء کیا ہے اور وقت جواز مکمل طور پر بیان ہی نہیں کیا۔
➋ حضرت جبرئیل علیہ السلام کی حدیث مقدم (یعنی مکہ کی) ہے اور جن احادیث میں مغرب کا وقت شفق غائب ہونے تک مذکور ہے وہ متاخر (یعنی مدینہ کی) ہیں اس لیے انہی پر عمل کرنا ضروری ہے۔
➌ یہ احادیث حضرت جبرئیل علیہ السلام کی حدیث سے سند کے لحاظ سے بھی زیادہ مضبوط ہیں اس لیے ان کو ترجیح دینا ضروری
ہے۔ [نيل الأوطار 444/1، تحفة الأحوذي 527/1]
(جمہور، حنابلہ، حنفیہ) اسی کے قائل ہیں۔
(شافعیؒ) نماز مغرب کا صرف ایک ہی وقت ہے اور وہ ابتدائی وقت ہے (انہوں نے حضرت جبرئیل علیہ السلام کی حدیث سے استدلال کیا ہے)۔
[شرح المهذب 33/3، المبسوط 144/1، المغنى 24/2، الإنصاف فى معرفة الراجح من الخلاف]
شافعی مذہب کی قدیم کتابوں میں ان کا یہی مذہب منقول ہے۔ [نيل الأوطار 458/1]
مذہب شافعی کی قدیم کتابوں میں «الأمــالي، مجمع الكافي، عيــون الـمـسـائل اور البحر المحيط» وغیرہ شامل ہیں اور جدید کتابوں میں «الأم، الإملاء، المختصرات،الرسالة اور الجامع الكبير» شامل ہیں۔ [طبقات ابن هداية الله ص:245]
اصحاب شافعی میں سے بعض نے نماز مغرب کے لیے دو وقت بھی بتلائے ہیں یعنی ایک غروب آفتاب اور دوسرا سرخی کا غائب ہونا۔
[نيل الأوطار 458/1]
(نوویؒ) یہی بات صحیح ہے۔ [شرح مسلم: 123/3، المجموع 34/3]

کیا شفق سے مراد سرخی ہے؟
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ «الشفق الحمرة» شفق سے مراد سرخی ہے۔
[عبدالرزاق 2122، بيهقي 373/1]
(صاحب قاموس) شفق وہ سرخی ہے جو غروب آفتاب سے لے کر عشاء تک، یا اس کے قریب تک آسمان پر نمودار رہتی ہے۔
[القاموس المحيط ص/808]
(صاحب مختار الصحاح) شفق سورج کی ایسی روشنی اور سرخی ہے جو رات کی ابتداء سے عشاء کے قریب تک رہتی ہے۔
(خلیلؒ) شفق سے مراد سرخی ہے۔
(فراءؒ) میں نے بعض عرب کو کہتے سنا ہے کہ اس پر ایسا کپڑا ہے گویا کہ وہ شفق ہے اور وہ سرخ تھا۔
[مختار الصحاح ص 144]
(صاحب منجد) شفق سے مراد غروب آفتاب کے بعد افق آسمان کی سرخی ہے۔ [المنجد ص/438]
(جمہور، احمدؒ، شافعیؒ) شفق سے مراد سرخی ہے۔
(ابو یوسفؒ، محمدؒ) اس کے قائل ہیں۔ علاوہ ازیں حضرت ابن عمر، حضرت ابن عباس، حضرت ابو ہریرہ، حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہما امام ابن ابی لیلیؒ اور امام ثوری وغیرہ کا بھی یہی موقف ہے۔
(ابوحنیفہؒ) شفق سے مراد ایسی سفیدی ہے جو عموما افق میں سرخی کے بعد بھی باقی رہتی ہے۔ ان کی دلیل یہ حدیث ہے
«و آخر وقت المغرب إذا اسود الشفق» لیکن یہ حدیث سندا ثابت نہیں ہے۔ [نصب الرايه 230/1]
احناف کے نزدیک اس مسئلہ میں صاحبین (امام ابو یوسفؒ، امام محمدؒ) کے قول پر ہی فتوی دیا جاتا ہے اور ایک روایت میں یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ امام ابو حنیفہ نے بعد میں اس کی طرف رجوع کر لیا تھا۔
[نيل الأوطار 467/1، المهذب 53/1، معنى المحتاج 123/1، اللباب 60/1، تحفة الأحوذى 488/1]
(راجح) جمہور کا موقف راجح ہے۔
(نوویؒ) شفق سے مراد سرخی ہے۔ [شرح مسلم 123/3]
(عبد الرحمن مبارکپوریؒ) شفق سرخی ہے۔ [تحفة الأحوذي 488/1]
(ملاعلی قاریؒ) زیادہ مشہور ہی ہے کہ شفق سرخی ہے۔ [أيضا]
(امیر صنعانیؒ) لغوی بحث کے لیے اہل لغت کی طرف رجوع کیا جائے نیز حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما اہل لغت میں سے ہیں، ان کی بات دلیل و حجت ہے خواہ موقوف ہی کیوں نہ ہو۔ [سبل السلام 159/1]
(صدیق حسن خانؒ) تمام لغت کی کتابیں، عرب اور ان کے بعد آنے والوں کے اشعار ی کی وضاحت کرتے ہیں (کہ شفق سے مراد سرخی ہے)۔ [الروضة الندية 201/1]
. . . اصل مضمون کے لئے دیکھئے . . .
فقہ الحدیث از عمران ایوب لاہوری، جلد اول، ص 305
   فقہ الحدیث، جلد اول، حدیث/صفحہ نمبر: 305