صحيح ابن خزيمه کل احادیث 3080 :حدیث نمبر
صحيح ابن خزيمه
ایسے افعال کے ابواب کا مجموعہ کے محرم کے لئے، جنہیں کرنے کے جواز میں علماء کا اختلاف ہے ¤ جبکہ سنّت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے جواز اور اباحت پر دلالت کرتی ہے
حدیث نمبر: 2683
Save to word اعراب
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا: جب محرم کو جوتے نہ ملیں تو وہ موزے پہن لے اور انہیں کاٹ کر ٹخنوں سے نیچے کرلے۔

تخریج الحدیث: تقدم۔۔۔
1885. ‏(‏144‏)‏ بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا أَبَاحَ لِلْمُحْرِمِ لُبْسِ الْخُفَّيْنِ اللَّذَيْنِ هُمَا أَسْفَلُ مِنَ الْكَعْبَيْنِ،
1885. اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے محرم کو وہ موزے پہننے کی اجازت دی ہے جو ٹخنوں سے نیچے ہوں ایسے موزے پہننے کی اجازت نہیں دی جو پنڈلیوں تک ہوں۔
حدیث نمبر: Q2684
Save to word اعراب
لا انه اباح له لبس الخفين اللذين لها ساقان، وإن شق اسفل الكعبين من الخفين شقا، وترك الساقين فلم يبانا مما اسفل من الكعبين على ما توهمه بعض الناس لَا أَنَّهُ أَبَاحَ لَهُ لُبْسَ الْخُفَّيْنِ اللَّذَيْنِ لَهَا سَاقَانِ، وَإِنَّ شَقَّ أَسْفَلَ الْكَعْبَيْنِ مِنَ الْخُفَّيْنِ شَقًّا، وَتَرَكَ السَّاقَيْنِ فَلَمْ يُبَانَا مِمَّا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ عَلَى مَا تَوَهَّمَهُ بَعْضُ النَّاسِ
اور اگر ٹخنوں سے اوپر موزوں کو کاٹ لے اور پنڈلیوں والا حصّہ باقی رہے، ٹخنوں سے نچلے حصّے سے وہ الگ نہ ہو تو بھی انہیں پہننا جائز نہیں۔ بعض لوگوں کا اسے جائز قرار دینا درست نہیں

تخریج الحدیث:
حدیث نمبر: 2684
Save to word اعراب
حدثنا محمد بن عبد الاعلى الصنعاني ، حدثنا بشر بن المفضل ، حدثنا عبيد الله ، عن نافع ، عن عبد الله ان رجلا قال: يا رسول الله، ماذا نلبس من الثياب إذا احرمنا؟ فقال:" لا تلبسوا القمص، ولا السراويلات، ولا البرانس، ولا العمائم، ولا القلانس، ولا الخفاف إلا احد ليست له نعلان فليلبسهما اسفل من الكعبين" ، وفي خبر حماد بن زيد، عن ايوب الذي امليته قبل، فليلبسهما اسفل من الكعبين، وهكذا قال ابن علية، عن ايوب، عن نافع، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم:" فمن لم يجد نعلين فليلبسهما يعني الخفين اسفل من الكعبين"، ثناه ابو هاشم زياد بن ايوب ، واحمد بن منيع ، قالا: حدثنا إسماعيل , انا ايوب ، وقال ابن جريج : اخبرني نافع ، عن ابن عمر في هذا الخبر فليقطعهما يجعلهما اسفل من الكعبين، ثناه محمد بن معمر ، حدثنا محمد بن بكر ، اخبرنا ابن جريج ، وقد خرجت طرق هذا اللفظ في كتاب الكبير.حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَجُلا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَاذَا نَلْبَسُ مِنَ الثِّيَابِ إِذَا أَحْرَمْنَا؟ فَقَالَ:" لا تَلْبَسُوا الْقُمُصَ، وَلا السَّرَاوِيلاتِ، وَلا الْبَرَانِسَ، وَلا الْعَمَائِمَ، وَلا الْقَلانِسَ، وَلا الْخِفَافَ إِلا أَحَدٌ لَيْسَتْ لَهُ نَعْلانِ فَلْيَلْبَسْهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ" ، وَفِي خَبَرِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ الَّذِي أَمْلَيْتُهُ قَبْلُ، فَلْيَلْبَسْهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ، وَهَكَذَا قَالَ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَمَنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْهُمَا يَعْنِي الْخُفَّيْنِ أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ"، ثَنَاهُ أَبُو هَاشِمٍ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، قَالا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , أنا أَيُّوبُ ، وَقَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ فِي هَذَا الْخَبَرِ فَلْيَقْطَعْهُمَا يَجْعَلُهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ، ثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، وَقَدْ خَرَّجْتَ طُرُقَ هَذَا اللَّفْظِ فِي كِتَابِ الْكَبِيرِ.
سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جب ہم احرام باندھیں تو کون سے کپڑے پہنیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم قمیص، شلوار، ٹوپی والے کوٹ، پگڑیاں، ٹوپیاں اور موزے نہ پہنو، البتہ اگر کسی شخص کو جوتے نہ ملیں تو وہ موزے پہن لے اور اُنہیں ٹخنوں سے نیچے کرکے پہن لے۔ جناب ایوب سے حماد کی روایت میں بھی یہی الفاظ ہیں کہ انہیں ٹخنوں سے نیچے کرکے پہن لے۔ اسی طرح ابن علیہ رحمه الله نے ایوب کی سند ہی سے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت میں بیان کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کو جوتے نہ ملیں تو وہ موزوں کو ٹخنوں سے نیچے کرکے انہیں پہن لے۔ امام صاحب نے ابن جریج کی روایت میں یہ الفاظ بیان کیے ہیں تو وہ شخص موزوں کو ٹخنوں سے نیچے کاٹ کر پہن لے۔ میں نے اس حدیث کے طرق کتاب الکبیر میں بیان کردیے ہیں۔

تخریج الحدیث: تقدم۔۔۔
حدیث نمبر: 2685
Save to word اعراب
ح وفي خبر سالم، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم:" فإن لم يجد نعلين فليلبس الخفين، وليقطعهما حتى يكونا اسفل من الكعبين"، ثناه عبد الجبار بن العلاء ، وسعيد بن عبد الرحمن ، قالا: حدثنا سفيان , عن الزهري ، عن سالم ، عن ابيه .ح وَفِي خَبَرِ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَإِنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسِ الْخُفَّيْنِ، وَلْيَقْطَعْهُمَا حَتَّى يَكُونَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ"، ثَنَاهُ عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنِ الْعَلاءِ ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ .
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: پس اگر محرم کو جوتے نہ ملیں تو وہ موزے پہن لے اور وہ موزوں کو کاٹ لے حتّیٰ کہ وہ ٹخنوں سے نیچے ہو جائیں۔

تخریج الحدیث: تقدم۔۔۔
1886. ‏(‏145‏)‏ بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا رَخَّصَ بِالْأَمْرِ بِقَطْعِ الْخُفَّيْنِ لِلرِّجَالِ دُونَ النِّسَاءِ
1886. اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف مردوں کو موزے کاٹ کر پہننے کی رخصت دی ہے
حدیث نمبر: Q2686
Save to word اعراب
، إذ قد اباح للنساء الخفين وإن وجدن نعالا، فرخص للنساء في لبس الخفاف دون الرجال، إِذْ قَدْ أَبَاحَ لِلنِّسَاءِ الْخُفَّيْنِ وَإِنَّ وَجَدْنَ نِعَالًا، فَرَخَّصَ لِلنِّسَاءِ فِي لُبْسِ الْخِفَافِ دُونَ الرِّجَالِ
کیونکہ عورتوں کے لئے جوتوں کی موجودگی میں بھی موزے پہننے کی اجازت ہے۔ اس طرح آپ نے مردوں کی بجائے عورتوں کو ہر قسم کے موزے پہننے کی رخصت دی ہے

تخریج الحدیث:
حدیث نمبر: 2686
Save to word اعراب
حدثنا الفضل بن يعقوب الجزري بخبر غريب، حدثنا عبد الاعلى ، قال: قال محمد يعني ابن إسحاق ، حدثني الزهري ، عن سالم ، ان ابن عمر ، قد كان صنع ذلك يعني قطع الخفين للنساء حتى حدثته صفية بنت ابي عبيد ، عن عائشة :" ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قد رخص للنساء في الخفين" حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجَزَرِيُّ بِخَبَرٍ غَرِيبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى ، قَالَ: قَالَ مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ سَالِمٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ، قَدْ كَانَ صَنَعَ ذَلِكَ يَعْنِي قَطْعَ الْخُفَّيْنِ لِلنِّسَاءِ حَتَّى حَدَّثَتْهُ صَفِيَّةُ بِنْتُ أَبِي عُبَيْدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ :" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ رَخَّصَ لِلنِّسَاءِ فِي الْخُفَّيْنِ"
حضرت سالم رحمه الله سے روایت ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما (اپنی محرمه) عورتوں کے موزے (ٹخنوں سے نیچے) کاٹ دیتے تھے حتّیٰ کہ حضرت صفیہ بنت ابو عبید نے اُنہیں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کے لئے موزے پہننے کی رخصت دی ہے۔ (تو انہوں نے موزے کاٹنے چھوڑ دیئے)۔

تخریج الحدیث: اسناده حسن
1887. ‏(‏146‏)‏ بَابُ الرُّخْصَةِ فِي اسْتِظْلَالِ الْمُحْرِمِ وَإِنْ كَانَ نَازِلًا غَيْرَ سَائِرٍ
1887. محرم سایہ حاصل کر سکتا ہے اگرچہ وہ کسی جگہ ٹھرا ہوا ہو اور سفر نہ کر رہا ہو۔
حدیث نمبر: Q2687
Save to word اعراب
ضد قول من كرهه ونهى عنهضِدَّ قَوْلِ مَنْ كَرِهَهُ وَنَهَى عَنْهُ
ان علماء کے موقف کے برخلاف جو اسے مکروہ سمجھتے ہیں اور محرم کو سایہ حاصل کرنے سے منع کرتے ہیں

تخریج الحدیث:
حدیث نمبر: 2687
Save to word اعراب
حدثنا محمد بن يحيى ، حدثنا عبد الله بن النفيلي ، حدثنا حاتم بن إسماعيل ، حدثنا جعفر بن محمد ، عن ابيه ، قال: دخلنا على جابر بن عبد الله ، فذكر الحديث بطوله، وقال:" امر يعني النبي صلى الله عليه وسلم بقبة له من شعر، فضربت له بنمرة، فسار رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى اتى عرفة , فوجد القبة قد ضربت له بنمرة، فنزل بها" حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ النُّفَيْلِيِّ ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ، وَقَالَ:" أَمَرَ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقُبَّةٍ لَهُ مِنْ شَعْرٍ، فَضُرِبَتْ لَهُ بِنَمِرَةٍ، فَسَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَتَى عَرَفَةَ , فَوَجَدَ الْقُبَّةَ قَدْ ضُرِبَتْ لَهُ بِنَمِرَةٍ، فَنَزَلَ بِهَا"
جناب محمد بیان کرتے ہیں کہ ہم سیدنا جابر بن عبد الله رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ پھر مکمّل حدیث بیان کی۔ اور فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لئے بالوں کا بنا ہوا ایک خیمه لگانے کا حُکم دیا تو وہ نمره وادی میں لگا دیا گیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلتے رہے حتّیٰ کہ عرفات پہنچ گئے۔ آپ نے دیکھا کہ وادی نمرہ میں آپ کے لئے خیمہ لگا دیا گیا ہے تو آپ اس میں تشریف فرما ہوگئے۔

تخریج الحدیث: تقدم۔۔۔
1888. ‏(‏147‏)‏ بَابُ إِبَاحَةِ اسْتِظْلَالِ الْمُحْرِمِ وَإِنْ كَانَ رَاكِبًا غَيْرَ نَازِلٍ
1888. محرم سایہ حاصل کر سکتا ہے اگرچہ وہ سواری پر سوار ہو اور نیچے اترا ہوا نہ ہو
حدیث نمبر: 2688
Save to word اعراب
حدثنا محمد بن يحيى ، حدثنا عبد الله بن جعفر الرقي ، حدثنا عبيد الله يعني ابن عمرو الرقي ، عن زيد وهو ابن ابي انيسة ، عن يحيى بن الحصين الاحمسي ، عن ام الحصين جدته، قالت:" حججت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم حجة الوداع، فرايت اسامة بن زيد، وبلالا يقود احدهما بخطام راحلته، والآخر رافعا ثوبه يستره من الحر حتى رمى جمرة العقبة" حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ ، عَنْ زَيْدٍ وَهُوَ ابْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحُصَيْنِ الأَحْمَسِيِّ ، عَنْ أُمِّ الْحُصَيْنِ جَدَّتِهِ، قَالَتْ:" حَجَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّةَ الْوَدَاعِ، فَرَأَيْتُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، وَبِلالا يَقُودُ أَحَدُهُمَا بِخِطَامِ رَاحِلَتِهِ، وَالآخَرُ رَافِعًا ثَوْبَهُ يَسْتُرُهُ مِنَ الْحَرِّ حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ"
سیدہ اُم الحصین رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج وداع کیا تو میں نے سیدنا اسامہ اور بلال رضی اللہ عنہما کو دیکھا۔ ان دونوں میں سے ایک رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی مہار پکڑے ہوئے تھا اور اسے ہانک رہا تھا جب کہ دوسرا آپ کو گرمی کی تپش سے بچانے کے لئے آپ پر کپڑے سے سایہ کیے ہوا تھا حتّیٰ کہ آپ نے جمرہ عقبہ کو کنکریاں مار لیں۔

تخریج الحدیث: صحيح مسلم
1889. ‏(‏148‏)‏ بَابُ إِبَاحَةِ أَبْدَالِ الْمُحْرِمِ ثِيَابَهُ فِي الْإِحْرَامِ، وَالرُّخْصَةِ فِي لُبْسِ الْمُمَشَّقِ مِنَ الثِّيَابِ وَإِنْ كَانَ الْمُمَشَّقُ مَصْبُوغًا غَيْرَ أَنَّهُ مَصْبُوغٌ بِالطِّينِ
1889. محرم حالت احرام میں اپنی چادریں تبدیل کرسکتا ہے اور اسے رنگین کپڑا پہننے کی رخصت ہے بشرطیکہ اسے گیرو سے رنگا گیا ہو
حدیث نمبر: 2689
Save to word اعراب
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم جب احرام باندھتے تو پھر ایسے کپڑے (بدل بدل کر) پہنتے رہتے تھے جن میں ہم نے احرام نہیں باندھا ہوتا تھا (ابتدائے احرام میں وہ نہیں پہنے تھے) اور ہم گیرو سے رنگے ہوئے تین کپڑے بھی پہن لیتے تھے۔ امام صاحب اپنے استاد محمد بن معمر کی سند سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں۔ جب احرام باندھتے تو ایسے کپڑے پہنتے جنہیں خوشبو اور زعفران نہیں لگا ہوتا تھا۔ اور ہم گیرو سے رنگے ہوئے کپڑے پہن لیتے تھے۔

تخریج الحدیث: اسناده صحيح

Previous    2    3    4    5    6    7    8    9    10    Next    

https://islamicurdubooks.com/ 2005-2024 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to https://islamicurdubooks.com will be appreciated.